In short
Podcast Summary: Raj Shamani's Figuring Out - FO435 with Dr. Vikas Divyakirti
Podcast Overview
- Title: Figuring Out
- Host: Raj Shamani
- Guest: Dr. Vikas Divyakirti, Educator & Author
- Theme: Preparation for the future opportunities in India, personal growth, and understanding human relationships through various lenses such as psychology, sociology, and philosophy.
Episode Highlights Key Topics Discussed
- Perception and Success
- The significance of perception in achieving success.
- Misunderstandings surrounding Dr. Vikas Divyakirti's persona as ‘serious’ despite his vibrant personality.
- Personal Development
- Emphasizing the importance of being authentic rather than striving to be an ‘ideal’ individual.
- The detrimental effects of societal pressures to fit into ideal molds.
- Relationships and Evolutionary Psychology
- Exploration of love versus arranged marriages and their implications on modern society.
- The psychological and biological underpinnings of why men and women choose partners.
- Infidelity and Social Expectations
- The reasons behind infidelity, rooted in evolutionary instincts versus societal monogamy demands.
- Discussion on the emotional and social 'taxes' placed on men and women in relationships.
- Loneliness as an Epidemic
- Recognition of the loneliness epidemic affecting modern society, particularly among men.
- Emotional expressiveness in men versus women and the societal pressure to conform to emotional norms.
- Emotional Intelligence and Expressiveness
- Importance of emotional intelligence and its evolution over time.
- Personal anecdotes regarding emotional experiences and humility in the face of societal expectations.
- Future of Technology
- Insights into how technology, particularly AI, will impact human relationships and societal structures.
- Speculation on the potential for AI to surpass human intellect and the ethical implications thereof.
Detailed Breakdown of Key Discussions
- Ideal Man Concept:
- Definition of an ideal man should include diversity in experiences and personal growth rather than adhering to societal norms.
- Marriage Insights:
- The debate on marriage's necessity in modern society, with a trend towards individualism and non-monogamous relationships.
- Emotional Tax:
- Exploration of the emotional burden carried by different genders and how society perceives emotional expressions.
- Cognitive Dissonance:
- The conflict between personal feelings and societal expectations, particularly noted in teaching and public roles.
Personal Anecdotes
- Dr. Divyakirti shared his experiences with feeling humiliated and the last time he cried, which was tied to the loss of his mother, emphasizing vulnerability and the emotional weight carried by individuals.
Advice for Growth
- Success Habit:
- Highlighting ‘perseverance’ as a crucial trait for success in any field, and the need for consistency and hard work.
- Advice for Raj:
- Encouraging Raj to continue seeking deeper conversations and to not shy away from meaningful discussions with guests.
Conclusion The episode encapsulates a rich blend of personal stories, psychological insights, and philosophical musings, encouraging listeners to engage with their own growth and understanding of relationships in a rapidly changing world. The discussions serve as a reminder of the importance of authenticity, emotional intelligence, and the need to adapt to evolving societal norms.
Call to Action Listeners are encouraged to subscribe to the podcast, engage with the content through comments, and share episodes with others who may benefit from these discussions.
Written by AI. May contain mistakes. Listen to the episode to check what was said.
Transcript
Automatic transcript. May contain errors.0:00جو اس ورلڈ میں ٹاپ پہ پہ پہ پہ پہ پہ لڈی کیfon کر剌 کہتے پہ ساتیں یار فرنگری رف doctorہ مہ لہ پہ پہ پہ چونگیز جة مل اوروند ہوں لچ سے مرکاس اور چل ہمو جم جات پہ سیاست ہے
0:21بیچ کے لیول پر رشتے بنے رہتے ہیں آپ کو بہت ہی کچھ لائف میں بڑھا کرنا ہے تو فیملی سٹرکچر آپ اس لوڈاون کرتے ہیں اگر نریندر موڈی یا یوگیا جتنا جیپی جبدالکلام نے شادی کی ہوتی تو میرے خیال سے وہ اتنا عصیب نہیں کر پاتے جتنا کیا ہے کیونکہ شادی کرنے کے بعد آپ کے ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں کسی ایک مشن کے ساتھ ہیں تو بہتر ہے کہ اکیلے راستے پر چلنا چاہیے tell me steps جس سے لوگ ideal man بننے کی طرف چاہ سبتے ہیں ideal بننے کے چکر میں زندگی خراب ہو جاتی ہے آپ ایک صحج انسان من جائیں وہ زیادہ بہتر ہے ideal عام طور پر دوسروں کے نگاہ میں خود کو دیکھ رہے ہوتے ہیں what's better love marriage or range marriage future marriage کا بہت safe نہیں ہے gen z ہے اس میں tendency یہ بڑھے ہے کہ لوگ شادی نہ کریں کیونکہ شادی سے جو benefits ملتے تھے وہ بینہ شادی کے ہی مل رہے ہیں چیٹنگ اتنی زیادہ ہوتی ہوگی جتنی ہمارے ڈیٹا بتانے پائے گا
1:24چیٹنگ اس لیے کرتے ہیں کہ جیسے ہم evolution سے بنے ہیں اور جیسے ہمارے social structures بنے ہیں اس کے بیچ میں contradiction ہے کہ میرے genes مجھے بار بار پریشان کرتے ہیں کہ نائیپن کی خوش کر اور میرے social structures مجھے دھمکی دیتے ہیں کہ اگر کی تو چھوڑیں گے نہیں اب ایک ہی راستہ بچا چیٹنگ ایسی کہا ہوتے ہیں مدرس بیبی فادرس میبی مدرز ایفیکٹ فادرز ایفیٹ مین کو کہیں نہ کہیں ایک ایموشن کا ٹیکس دینا پڑتا ہے یہ دکت مہیلاؤں کے ساتھ زیادہ ہے اگر وہ کسی سے ہلکا سا مسکر آ کے بات کر لے جج کر لیتے ہیں کہ یا تو چاہتی ہے مجھے یا کریکٹر ٹھیک نہیں ہے لونلینیس بہت بڑھ رہی نا پورے ورلڈ میں ملونلینس زیادہ بڑی اپیڈیمک مانی جاتی ہے کیوں؟ ملز ایکسپریسیو نہیں ہوتے زیادہ کیونکہ ایکسپریسیو نہیں ہے تو دھیری دھیری سرکل ان کا سمٹتا جاتا ہے بہلاؤں کے اچھی بات ہے کہ بہت ایکسپریسیو ہے
2:14میں آپ کو ایک سال سے پورٹر اور ان کی ویہیکلز کے بارے میں بتا رہا ہوں آپ میں سے بہت لوگوں نے شاید پورٹر اوریڈی یوز کیا ہوگا اور جو بھول گئے ہیں یہ ایک شورٹ ریکیپ ہے 20 کلو تک کے سامان پوٹر کے 2 wheelers سے easily پہنچ جاتے ہیں اور جب آپ کو بڑا shipment بیجنا ہو like bulk orders up to 4500 kgs ان کے ٹرکس آپ کا کام effortlessly handle کرتے ہیں بنا tension کے چاہے آپ اپنا بزنس چلا رہے ہو پوٹر کا کام ہر چیز کو سیف پہنچانا ہے تاکہ آپ کو بس اپنے کام پر فوکس کرنا ہو اور unnecessary stress نہ ہو this episode is brought to you by our title sponsor کلک دے لنک دیسکرپشن اور آج کے ہمارے گیس تھے ڈاکٹر وکاس دیویاکیرتی ایڈوکیٹر اور آتھر ہم ان سے جانیں گے کیسے ایفیلیوشنری سائیکالوجی انسان کے بیہیویر کو سمجھنے میں ہلپ کرتی ہے اے آئی نے سوچ کو کیسے بدلائے شادی کے سسٹم کی ہسٹری کیا ہے اور ایموشنل انٹیلیجنس کا مطلب کیا ہے یہ اپیسوڈ اند تک ضرور دیکھئے اور مجھے کومنٹ میں بتائیے آپ نے اس اپیسوٹ سے کیا سیکھا
3:32پرسیپشن بڑا بنانا بینیفٹ ملتا ہے تمہیں اس سے پھر وہی باتے ہیں بینیفٹ کے سینس میں اور نقصان کے سینس میں کیا آپ کو لائف میں زیادہ سکسیسفل ہونے کی چانس سکسیسفل ہونے کی چانس بڑھ جاتے ہیں ایدم بڑھ جاتے ہیں کیا آپ کا پرسیپشن بڑھا ہے اندر سے آپ کچھ بھی ہو تو آپ پرسیپشن مینج کر کے کھر سکتے ہیں ہاں ہاں پرسپشن گئی کھیل ہے جو بڑے فلم سٹارز ہیں ان کے وارے پرسپشن بہت بڑا ہے سچ کیا ہے کہ جو ڈائلوگز وہ بولتے ہیں وہ بھی وہ خود نہیں لکھتے ہیں کوئی لکھ کے دیتا ہے ان میں سے بھی کئی لوگ ٹیلی پرمٹر یوز کرتے ہیں بولنے کے لیے جو لوگ چار سنٹنس یاد کر کے نہیں بول پا رہے ہیں خود تو نہیں سوچ پا رہے ہیں وہ بھارت میں سب سے مان مانے جاتے ہیں بہت سارے سوشل میڈیا سچارز ٹیلی پرمیٹر سامنے رکھ کے سارا بولتے رہتے ہیں کسی کو نہیں پتا لگتا اور لوگ سوچتے کترا گھیان ہے زبردست ہے پرسیپشن کے تو کھیل ہے اب مان لیجی ہم تو ریندم بات کر رہے ہیں اگر مان لیجی ہم پہلے سکرپٹڈ کر لیتے کہ آپ کوئشن بتاتے ہیں میں انسری آت کر کے آتا کسی پتا لگے گا پر پرسپشن نہیں جا گا کہ وہاں کیا بات ہے کتنے گہرے سوال کتنے گہرے جواب ایسا ہوتا ہی ہوگا کہیں نہ کہیں اگر آپ نے ایسا پرسپشن بنا لیا پچاس دکھا بن گیا اب ایک کیاون بھی بار آپ کو کسی بڑے آدمی نے بلائے کہ بھائی آپ بہت اچھا سوال پوچھتے ہیں میں آپ سے بات کرنا چاہتا ہوں اور آپ پرسنلی بولنے کے سر ایسا ہے ہم تو پہلے نوٹ کر لیتے ہیں تو نہ دماغ نہیں ہے میرے پاس ایسی کرنا پڑے گا ایک کو ہی تو پتہ لگا پرسیپشن اور بڑا ہو گیا اس کے بعد تو اگر آپ کا پرسیپشن فیک ہے تو بہت چھوٹے سرکل میں لوگوں کو پتہ ہے کہ پرسیپشن دنیا کو کیا پتہ اور دنیا آپ کو ویسے ٹیٹ کر لی ہے اور اس کا بینیفٹ ملتا ہے بینیفٹ تو بھائی جیسے کوئی سٹار بہت کریڈیبل مانا جاتا ہے جبکہ وہ ٹی پی سے پڑ رہے سارا تو ویجیہ پن تو اسی کو ملے گا نا اور ویجیہ پن دیکھنے والے کو کیا پتا کہ اس نے ویجیہ پن بھی پڑھ کے بولا ہے انہیں کیا مطلب اس بات سے تو لگ بھک سارا کھیل تو پرسپشن پہ ہی کھاتم ہو جاتا ہے نائس what do you think آپ کے بارے میں سب سے بڑی مسنڈسٹینڈنگ کیا ہوگی لوگ میں لگ شاید یہ کہ میں بہت سیریس ٹائپ کا آدمی ہوں نہیں ہو مجھے لگا سیریس ہی ہو
6:03میں ملہب وہ ایک ڈائیک آٹومی ہے میں پرسنل لائف میں ہمیں انٹروورٹ ہوں لیکن جب میں کلاس روم میں ہوتا ہوں تو میں بہت جولی نیچر میں رہتا ہوں میں بہت زیادہ ہستا ہوں بہت زیادہ ہستا ہوں تو یہ ایک کانٹر اڈکشن جیسی آپ کہہ سکتے ہیں اور میں اپنی کالیج لائف میں پولیٹیکلی بہت ایکٹیو رہا ہوں تو وہ ساری حرکتیں جو پولیٹیکس میں کی جاتی ہیں کی بھی ہیں enjoy بھی کی ہیں اور کوئی پرستابہ بھی نہیں ہے تو لیکن اب دھیری دھیری جب پڑھنا پڑھانے شروع کیا تو perception ایسا بن گیا ہے کہ میں بہت serious آدمی ہوں نہیں ہوں نہیں do you think کہ اس سے فرق پڑھتا ہے آپ کو کہ لوگ کیا سوچتے ہیں لوگ کو ایسا دیکھنا چاہیے میرا فل personality دیکھو کیوں ایک سائیڈ کی personality دیکھ کے تو مجھے بڑا بنا رہے ہیں مجھے کافی حد تک فرق پڑھنا بند ہو گیا پہلے تو فرق پڑتا تھا اب زیادہ فرق نہیں پڑتا یہ ضرور ہے کہ اگر میں کہیں جا رہا ہوں اور لوگ پہچان لیں تو میں تھوڑا سا انکمفرٹیبل فیل کرتا ہوں تو ماسک واسک لگا کے کام چلاتا ہوں لیکن ہاں اس سے بہت فرق نہیں پڑتا کہ لوگ میرے بارے میں کیا سوچ رہے ہیں میں کوشش کرتا ہوں کہ جیسا ہوں ویسا رہوں پر یہ ہے کہ میرا پرسیپشن میرے بارے میں جو پرسیپشن ہے وہ کافی الگ ہے جیسا میں ہوں اس سے اتنا perception ٹھیک ہے کہ مجھے پڑھنا لکھنا بہت پسند ہے میں ہر وشے پہ چاہتا ہوں کہ خوب پڑھوں وہاں تک ٹھیک ہے میں پڑھاتا ہوں پڑھنا لکھنا پڑھانا میرا سوہ دھرم ہے یہ ٹھیک ہے یہاں تک کوئی دیکھ کر نہیں ہے پر میں کھیلتا بہت زیادہ ہوں یہ لوگوں کو نہیں پتا ہے میں تین چار کھیلوں میں ٹھیک ٹھیک کھیل لیتا ہوں میں state level تک جمناسٹکس کھیل چکا ہوں سکول میں یہ نہیں لوگوں کو پتا ہو سوچ بھی نہیں سکتا ہے کہ ایسا کچھ ہوگا میں پول ٹیبل ٹینس کرکٹ سب ٹھیک کھیل لے تو تو وہ میرے پرسپشن کا پارٹ عام طور پر دنیا میں ہے نہیں لگتا نہیں ہے کہ ایسے اتنے زیادہ کھیل ہوگی بٹھ نیشنل تک کھیل لیتے ہیں نا جمناسٹکس کو اچھا ہوں من تھا شاید نیشنل تک کھیلنے کا
8:11کھیل لیتے ہیں میں ریسرچ کر رہا تھا آج تو مجھے پتا سالا تو میرے لیے بھی وہ تھا جمناسٹکس تو کافی ڈیفرنٹ ہے جب میں آج ریسرچ کرنے کی چکر میں بہت کومنٹ بھی پڑھتا ہوں لوگوں کے کہ کہیں نہ کہیں سے کچھ نہ کچھ we try to collect نوٹ کی مجھے سوال بتاؤ کہ وہ آپ کے بارے میں سوچتے کیسا ہیں کیا ہے ایک بہت اچھی بات بولتے ہیں لوگ جو کومنٹ میں بھی ہوتا ہے which is a positive side ہم نیگیٹیف پہ بھی آئیں گے is بہت لوگ بولتے ہیں کہ ideal man ہو تو وہ پرکاس سرز ایسا ہو نہیں نہیں جھوٹ بولتے ہیں no genuinely people talk about کیونکہ شاید لوگ thought process teaching business acumen اور اگر آپ بلدہ sports اور پھر آپ بلدہ jolliness جو ان کو دیکھتا ہے وہ سب mix کر کے ہی لوگ بولتے ہیں کہ سب ہے انسان میں نہیں تو usually لوگ جو بہت بڑا قسم کے ہیں وہ اتنا sports میں شاید ہی ہوں گے یا وہ اتنی اچھے بزنسمن ہوں گے usually teaching businesses not very hand in hand نہیں جاتا آج کل انڈیا میں بہت famous ہے کچھ چھوڑ کے انسیڈنٹ so what do you think is an ideal man آپ کی کیا definition میں دو باتیں کہہ سکتا ہوں ایک تو جس میں diversity ہو دوسرا جس کا evolution ٹھیک سے ہوا بچپن کو بچپن کی طرح جیا ہو جوانی کو جوانی کے طرح ہی جیا ہو وہ سب چیزیں کی ہوں جو اس عمر میں صحابق ہیں ایسے کیا ہو بچپن میں لڑائی جھگڑے مار پٹائی نون سیریسنس پڑھائی اتنا نہیں کر پائے ہومورٹ نہیں کیا دانٹ پڑھ گئے پٹ گئے وہ سب کیا ہو بہت پڑھا ہوں کسیم کے بچے مجھے پسند نہیں کو کاریکٹوٹر ایکٹیوڈیز میں خوب پارٹیسپیٹ کیا ہو چاہے وہ ڈانس ہو, ڈیویٹنگ ہو, سپورٹس ہو ہر چیز ہو ایک well groomed person بھاشا پر اچھی command ہو سماج کو سمجھنے کی ایک basic شمتہ ہو کسی بھی uneven situation کو handle کرنے کی شمتہ کسی کے اندر آ جائے تو میں مانتا ہوں کہ اسی پرورش ٹھیک ہو گئی ہے پھر college life میں تو تھوڑی موج مستی تھوڑا politics کر لی, بدماشی کر لی پیار محبت کر لیا, break up ہو گیا یہ سب چیزیں بھی ہو جانے چاہیے پھر جب وہ کریئر میں آئے تو ایک بھوک کی مجھے اچھا پرفارم کرنا ہے اور جس بھی کشیتر میں کام کرے اس کشیتر میں شاندر کام کرے تو مجھے لگتا ہے کہ وہ ایک مکمل انسان ہے اور کام کے پیچھے اتنا پاگل نہیں ہوں کہ اپنی ہوبیس کو مار دے کچھ ہوبیس بنا کے چلے کوئی بھی ہو جیسے میری ہوبی پڑھنا ہے قویتائیں پڑھنا ہے شیر افشائری پڑھنا ہے یاد کرنا تو میں آج بھی یہ کم کرتا رہتا ہوں جب موقع ملتا کرتا رہتا ہوں فلمیں دیکھنا ہے تو دو چار یا کم سے کم ایک دو ہوبیز بنی رہیں اور ان میں بھی اس کی ایک اچھی کمانڈ ہو ایسے ہی نہیں کہ بس ہاں شوک ہے تو ہے کمانڈ ہو اس میں بھی تو جو بھی کام ہو رہا ہے اس میں ایک اماندر دشنی چاہیے اور اگر اس کے رشتے بھی مکمل ہیں دوستوں کے ساتھ پریبار کے ساتھ تو اس سے بہتر کیا ہو سکتا ہے تو یہ تو آپ نے بتا دیا کہ یہ سب کیا ہو جس نے مان لو کسی کارن ورش سرکمسٹینسز کی وجہ سے اپنی سیچویشن کی وجہ سے پریبار کی وجہ سے چھوٹ گئی گاڑی آج وہ یہ پہلی بار دیکھ رہا ہے وہ ہو سکتا ہے انسان آج پچیس سال کا ہو جو چاہ رہا ہے کہ میں گھوم رہا ہوں اور میری زندگی میں اب مجھے راپا کرنے ہو سکتا ہے 40 ار کا 50 ار کا وہ بول رہا ہے کہ میری گاڑی پیشن والی چھوٹ گئی آج شاید مجھے بیٹر بننا ہے یہاں ہو سکتا ہے وہ انسان ہو جس کیا سب ہے لیکن وہ وقتقت لیول پہ گصہ ہو مارتا پیٹتا ہو بگاہ ہو somebody is watching it for the first day tell me one two three یا four steps جس سے لوگ کہیں کیسے بھی ہوں اس سے ایک ideal man بننے کی طرف چاہ سبتے میں تو کہوں گا کہ ideal بننے کے ذکر میں نہیں پڑھنے تو اچھا ہے better man ideal بننے کے ذکر میں زندگی خراب ہو جاتی ہے آپ ایک سہج انسان بن جائیں وہ زیادہ بہتر ہے آئیڈیل عام طور پر دوسروں کے نگاہ میں خود کو دیکھ رہے ہوتے ہیں اور ہمیشہ دوسروں کے نگاہ سے خود کو دیکھنا اپنے آپ میں ایک بہت پریشانی کی بات ہے کمفرٹیبل ہیومن بینگ ہونے زیادہ بہتر ہے تو جو جو مس ہوا آپ کی زندگی میں آج کل تو ہم کہتے ہیں کہ age is just a number تو جو مس ہوا ہے سوشل میڈیا کے دور میں لگ بھگ وہ سی سب چیزیں پھر سے کرنے کی ایک چوئس آپ کے پاس ہے مثلا کھیلنے کا شوق تھا بچپن میں کرکٹ نہیں کھیل پائے اب نوکری کرتے ہیں میں ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو پانچ دن نوکری کرتے ہیں بڑھیا نوکری کرتے ہیں اور دو دن خوب کھیلتے ہیں ایسی ایپس آج کل ہیں کورپوریٹس کے لوگ انہی ایپس پر ان کا سکور بھی آتا ہے سب کچھ ریکارڈز بنتے رہتے ہیں سٹیڈیم بک کر لیتے ہیں میدان بک کر لیتے ہیں ہر سرٹے کھلنے جاتے ہیں تب نہیں کھیل پائے آپ کھیل لیجئے ہمارے کچھ دوست بیڈمنٹن ڈلی میں آج کل کچھ کوٹس اگر آپ بک کرتے ہیں روز کھیلتے ہیں تو آج کل بڑی سو بھی دائی ہے جو آپ نہیں کر پائے وہ سب کرنے کے آپشنس ہیں آپ کے ڈانس کرنے کا منتھ بچپر میں نہیں کر پائے آپ سیکھ لیجئے اتنی ڈانس اکیڈمیز ہیں اور اس میں کچھ بیچے specially ان لوگوں کے لیے جن کی عمر زیادہ ہے چلے جائیے ایک بر اپنی hitch سے باہر تو نکلنا پڑے گا comfort zone توڑنا پڑے گا تو اچھی بات ہے کہ یہ جو نیا tech culture ہے اس میں لگ بھگ ہر چیز کے options بن گئے ہیں جو میں کہنے سے بچنا ہوئی ہے کہ اگر اس عمر میں پیار محبت نہیں کیا تھا اکیلے گھوم رہے ہیں اب dating کر لیں dating sites میں ہیں senior لوگوں کے لیے بھی ہیں کہاں کوئی دکھت ہے کوئی چھوٹا آپ کی life ہو ایسا کچھ چھوٹا نہیں ہے لگ وقت سب چیزیں مکمل طریقے سے ہوئیں ہیں میری لائف میں ڈائیورسٹی بہت زیادہ رہی ہے اور مجھے لگتا ہے کہ میں بہت کنٹنٹ ہوں کچھ دراتے ہیں آپ کو do you have any fear میں لگ فیر کیا ہو سکتا ہے ایک ہو سکتا ہے کہ جو پرسدھی یہ ختم ہو جائے گی مجھے بہت فیر اس سے اس کا نہیں ہوتا نہیں ہے ایک فیر یہ ہو سکتا ہے کہ جو سفلتائیں حاصل کی ہیں وہ ختم ہو جائیں گی مجھے اس کا فیئر بھی نہیں ہوتا ہے مطلب میں اتنا کمفرٹیبل ہوں کی بری سے بری ستی میں ہی میں زندگی گزار لوں گا ٹھیک طریقے سے کچھ لوگ ہوتے ہیں جو یوشیلی دیدہ ریسرچ کی جو سولہ سترہ یا سولہ سترہ سے لے کے پچیس ساتھائیس میں ڈیٹ بول ایج بریکٹ بول رہا ہوں بس اس ایج بریکٹ میں جن لوگوں نے گریبی دیکھی ہوتی ہے یا فینانشل ترموائل دیکھا ہوتا ہے انسٹیبلیٹی دیکھی ہوتی ہے انہیں بھار ایک طریقے کا فینانشل ٹراما ہوتا ہے وہ زندگی بھر کتنا بھی سکسیسفل بن جائے کتنے ہی پیسے کمالے ان کو ایک کہیں نہ کہیں ڈر رہتا ہے کہ یہ پیسہ چلی نہیں جائے میرا واپس انسیکیورٹی نہیں ہو یہ ریسرچ پڑھنی پڑھے گی مجھے کیونکہ میں لگ بھر ستنہ کی عمرت سے لگ بھر پچیس کی عمرت تک ہی فینانشل ٹراملز خوب دیکھیں بہت زیادہ دیکھا ہے اور سچ بات ہے مجھے لگتا ہے کہ اسی کی وجہ سے مجھے ڈرنی لگتا ہے کیوں الٹا ہو ناچی نا اب تو پیسے آگ رہے کیونکہ میں نے اتنا برا دیکھا ہوا ہے کہ میں ہر برے ستی کو آرام سے جھیل سکتا ہوں جب اس کو جھیل لیا تھا تو کسی کو بھی جھیل لیں گے یہ کانفیڈنس بھی لیندر رہتا ہے تو مجھے نہیں بتایا کس نے کیا ہے لیکن مجھ پر وہ اپلائی نہیں ہوتی ہے اس کا پاورٹی سکار ہیپوتhesیس یہ یہ it shows that people who experience economic turmoil between ages of 18 to 25 develop what they call a scarcity mindset and it never fully heals even after becoming wealthy 91 % of respondents reported anxiety about money inability to enjoy wealth hyper vigilance about spending تو ایک طریقے کا ایک trauma response ہو جاتا ہے ہو سکتا ہے میں تھوڑا vigilant in spending تو ہوں hyper تو نہیں vigilant in spending ہوں ہالانکہ میں آج بھی اچھی city میں ہوں میری company ہماری ہی ہے میرے travel وہ دیکھ لیتی ہے اچھی جگہ رہنے کو مل جاتا ہے وہ سب ہے پر آج بھی اگر میں ہوتل میں بھی رہ رہا ہوں اور ایک لائٹ ایک شاہ جار رہے تو میں اس کو بند کرتا ہوں اس لیے نہیں کہ مجھے بل پے کرنا ہے اس لیے کہ اس کے انوائرمنٹل اپیکٹس ہونے والے ہیں ایک ایک ایک زمپل آپ کو دیتا ہوں ممبئی میں میں جہاں رکھا ہوں وہاں ٹھیک ٹھیک مہنگا کمرہ ہے اب مجھے کل کپڑے پریس کروانے تھے تو میں نے پہلے پتہ کیا کہ وہ میرے پیکیج میں ہے یا نہیں تو پتہ لگا پیکیج میں نہیں تو میں نے خود پریس کی ہے جبکہ وہ کتنا سو روپے سے دو سو روپے ہوتے تو اگر مجھے لگتا ہے کہ میں فری ہوں دس منٹ لگیں گے بچ پن سے کبھر پریس کرتا آئے رہا ہوں میں کیوں بینہ آباد کے سو روپے ہوں لیکن اگر وہیں میرا بچہ ہوگا وہ کہیں فنسا ہوگا تو میں اسے کہوں گا بیٹا پریس کروالو کیونکہ وہ شاید بہت کمفرٹیبل نہیں ہو سکتے کپڑا جلا دے کیا کرے پتہ نہیں اور اگر مجھے لگتا کہ وہ کمفرٹیبل نہیں پریس کرنے میں تو مجھے چنتہ نہیں ہوگی میں اس کے لئے بول دوں میں تم کروا دوں میں نہیں کروا پاؤں گا یہ جنریشنل معاملہ زیادہ ہوتا ہے آپ کے پیرنٹس بھی کچھ ایسے وہ کچھ ایسے خرچے کریں نہیں پائیں گے جو آپ چاہتے ہیں کہ وہ کریں اور آپ کی نیکس جنریشن آپ سے دکھی رہے گی اس معاملے میں ایسے میری ماں کو میں نے کتنی بار کوشش کی کہ گھر میں ڈومیسٹک ہیلپ لگا دوں پر وہ اس مائنسٹیٹ میں رہی ہیں بچپن سے اتنی شرگلز رکھی ان کو ہمیشہ لگتا تھا کہ اتنے پیسے میں کسی خرچ کروں اور میں ان کو نہیں سمجھا پایا کہ آپ کے بچوں کے پاس اتنی سمجھ دی ہے کہ وہ آرام سے منیج کر سکتے ہیں انہیں پتا تھا کہ منیج کر سکتے ہیں پر تب بھی ایک دو ویدہ اور اگر لگوا بھی دیا تو بھی لگتا دو ویدہ کی میرے اوپر خرچ ہو رہا ہے پیسہ اب آپ اس کو پیسہ دے کے ختم نہیں کر سکتے جو بچمند سے نیورل بات بن جاتا دماغ کے اندر اس کو بٹانا پڑا مشکل ہے تو اٹھارہ سے پچیس سال کا ایکسپیرینس کا پرنائم یہ ضرور ہوا کہ میں ایکسٹرا سپینڈنگ سے یا پیسہ ویسٹ کرنے سے بچتا ہوں لیکن میں as an employer as a boss بہت liberal اور ٹھیک مانا جاتا ہوں اگر آپ نے یہ research کیا تو میرے خیال سے وہ آپ کے سامنے آئی ہوگی Drishti as a company is supposed to be the best pay master in the industry and I am proud of it ایسے اور کونسی چیزیں جو آپ خرچن نہیں کر سکتے just I'll give you an example آپ نے آپ کی مام کا example دیا میرے فادر کا بھی example کہ وہ driver نہیں رکھ سکتے انہیں میں بولتا ہوں کی اب آپ کی ایج ہو گئی ہے رکھ لو آپ حرام سے ایز ادھر ادھر جانا آپ کو بہت بار کام بھی ہوتا ہے فون پہ بھی بات کرنی ہوتی ہے تو کیوں آپ وہ کیا کرتے ہیں گاڑی سائیڈ میں روک کے پھر پندہ ہم نے دور بات کرو
19:30مجھے پتہ آپ چلا سکتے ہو کبھی کچھ ادھر ادھر رکھ لو کیا دکت ہوگی پاکنگ کرنے کی دکت نہیں ہے وہ بولتے ہیں صبح سے رات تک کھڑا رہے گا وہ کیا کرے گا یہی problem ہے شبتہ رہتا ہے کیسے لگ رہے ہیں اور کام ہو وہ کھڑا رہے گا کیا کرے گا میں کیوں کسی کو کھڑا رکھوں ٹھیک ہے نا ہم کر سکتے نہیں کرنا ملک نہیں کرنا اور وہ کچھ بھی ہو جائے ہم کچھ بھی کر لیں کوئی دکھت نہیں ہم ہمارے پیسو سے کریں ان کے پیسو سے کریں پڑوس لے کے کریں انہیں کوئی دکھت نہیں خود پہ بہت دکھت ہے اور وہ نہ خود خرچہ کریں گے اس پہ نہ مجھے کرنے دیں گے نہ میرے بھائی کو کرنے دیں گے بھائی بھائی ہاں ان کے اوپر ہاں یہ ہوتا ہے تو آپ کے کیسے ایسے پیٹرنز ہیں جن پہ آپ فضول کر چاہتے ہیں میرے گھر میں کچھ ایسے لوگ ہیں جو بہت ادار ہیں خرچ کرنے میں بہت لبرل ہیں تو انہیں کوئی دکھت نہیں ہے کتنا بھی خرچ ہو انہیں پتہ ہے کہ ہماری جو کنڈیشن ہے ٹھیک ہے اور کیوں کمائے ہیں پیسے خرچ نہیں کر سکتے تو میں ہی تھوڑا سا کنجوس ٹائپ کا آدمی ہوں اس معاملے میں اور اس کی وجہ میرے خیال سے وہ ٹراؤما نہ ہو کر کے بچپن سے سنسکار جو ہم نے سیکھے وہ زیادہ ہیں جیسے پچھلے سال میں امریکہ جا رہا تھا تو میرے پریوار کے لوگوں نے جد کر کے مجھے ایک فلائٹ فرس کلاس کے دلوائے مجھے یہ بھی نہیں پتا تھا کہ فرس کلاس بزنس کلاس الگ الگ ہوتا ہے تو ہوتا ہی پتہ لگا دلوائی اور پورے کھیت کے برابر جگہ ہے پلین کے اندر مل گئی اور ایک وہ سپیسیفک بیکتی ہے جو بار بار آئی سرم پوچھ رہے کچھ کھانے کو پوچھ رہے میں اس آٹھ گھنٹے کے فلائٹ میں اتنا پریشان ہو گیا تو میں نے اپنے فیملی میں کہہ جئے کہ زندگی میں اس کے بعد فرس کلاس میں نہیں جاؤں گا کیوں مجھے کمفیٹیب نہیں لگتا اکیلے کیا بیٹھنا ہے ہمیں ایکانومی میں آج کل تھوڑا بست ہوں کیونکہ وہاں بہت لوگ پہچانوالے مل جاتے ہیں تو تھوڑا پرائیویسی کا ایشو ہو جاتا ہے بزنس میں یہ کی پرائیویسی کا ایشو نہیں ہوتا اور بہت مہنگا بھی نہیں ہوتا ہے اس کمپیر تو فرس کلاس اور لوگ دکھتے رہتے ہیں اس پاس تو لگتا ہے کہ آپ لوگوں کے بیچ میں ہیں فرس میں تو بند ہے کیابن تو بہتا ہے نا بھائی نا یہ تھوڑا زیادہ ہو رہا ہے اور پھر جب پتہ لگا کتنے پیسے لگ گئے تو بڑا چوبا بھی اور زیادہ چوبا بھی بہت زیادہ اسی ریزن سے لوگ فرس چوز کرتے ہیں موسٹلی فرسٹ اور بزنس میں عدد کر فلائٹ میں صرف یہی ڈیفرنس ہوتا ہے کہ فرسٹ میں آپ گمنامی سے آوگے گمنامی سے چلے جاؤگے پریویس یہ ہوگی لوگوں کو پتہ نہیں چلے گا اتنی گمنامی کی ضرورتی ہے مجھے پس یہ ہے کہ کوئی زیادہ پریشان نہ ہوتا ہے یہ ایک ہی ہو گیا اور ایسے کہاں پہ فضول جو لگتے ہیں آپ کو خرچے کچھ ایسی چیزیں میں بولوں گا تو پھر گھر میں ڈسپیوٹ ہو جائے گا جیسے ایک بار میرے بیٹا نے کہا کہ پاپا مجھے یہ والی کار چاہیے چھوٹا تھا میں نے کہاں بیٹا جب بڑے ہو جاؤ گے کھریج لینا اور ہمیں گھما دینا اس میں اور پاپا پاپا پاس اتنے پیسے دوں کہ آپ خرید سکتے ہو تو میں نے کہا میں خرید سکتا ہوں کا مطلب یہ تھوڑا نہیں خرید لوں خرید سکتا ہوں پر کیوں خریدوں کیوں پیسہ ویسٹ کروں اس کے بعد بھی یہ سچ ہے کہ ہمارے پاس ایک عدد بڑی گاڑی ہے مہنگی گاڑی ہے میں پرسنلی بہت کمفرٹیبل نہیں ہوں چیزوں کے ساتھ پر فیملی تو سب لوگوں سے بنتی ہے نا بھئی تو سب کا ملا کے جو بہومت بنتا ہے مجوری بنتے اس سے فیصلے ہوتے ہیں تو اگر مجھے اکیلے کہیں جانا ہو تو میں بھول کے بھی ایسی گاڑے سی ٹریول نہیں کرتا ہوں ہاں جہاں سیفٹی کا ایشیو ہو ہائیوے پہ جانا ہے خطرہ ہے وہاں کبھی کبھی کر لیتے ہیں تو مجھے ایسا لگتا ہے کہ فضول کرچہ ہاں پرسنل لیول پہ ایسا لگتا ہے آپ ایک ایک ایسے میرے پاپا جیسی باتیں گئے ہاں جیسے کوئی مجھ سے یہ کہے کہ یہ گھڑی ہے چالیس لاکھ روپے کہ وہ پہن لو ہم گفٹ کر دیں گے تو میں گفٹ بھی نروں گا کوئی مجھ سے یہ کہے کہ بھائی یہ چشمہ لے لو یہ پانس لاکھ روپے کہ میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتا ہوں ایسا کیوں ہے کیونکہ میں بھی ایسا ہوں میں گفٹ نہیں لیتا لوگوں سے باہر کے کسی سے بھی اگر وہ کوئی جس کو جان پہچان والا بھی اچھا بھی زیادہ مہنگا گیا مجھے بہت uncomfortable ہو جاتا ہوں میں نہیں لیتا ہوں وہ اسی لئے کہ آپ کو اندر ہی اندر یہ سمجھ میں آتا ہے کہ اس کی کوئی نہ کوئی قیمت چکا نہیں پڑے گی اور ہوتا ہے ایسا کوئی بھی چیز free میں کوئی نہیں دیتا دوستی آرے میں یہ ہو سکتا ہے کہ financial cost نہ ہو emotional cost تو ہے نا اس کے psychological ہے social cost ہے اور وہ expect کرے گا جیسے کوئی آپ کو gift دے مہنگ ایسا تو اس کے بجھے لکھے میں جتنا کہے گی ایک بار میرے گھر آ جائے گی اور آپ انٹروورٹ ہیں آپ کو وہی چیز زیادہ مہنگی لگ رہی ہے تو اس سے اچھا گفت مت لیجئے کیوں لے گفت احسان لینے سے بچنا چاہیے جتنا بچا جا سکے اب ریچ آؤٹ کر سکتے لوگوں کو کچھ کام ہوتا ہے کچھ آپ کو کسی مانگنے میں شرم آتی ہے بہت زیادہ بہت ہی زیادہ کیوں سلف رسپیکٹ کہہ لیں سلف ایسٹیم کہہ لیں اور ایک unconscious fear کہ میں کچھ مانگوں گا تو اس کے بدلے کچھ چکانا بھی تو پڑے گا اور وہ کیا چکانا پڑے جائے گا پتہ نہیں and I am one of the people who can't say no comfortably so if you were such person if you don't have command over saying no you should avoid such situations میں خود کیوں create کروں لیکن ہاں کبھی کبھی کہتا ہوں اگر کوئی بہت genuine requirement ہے اپنی تو میری کمی ہوتی ہیں لیکن مان لے جی کوئی بچہ ہے کوئی ایسی situation میں فنس گیا جہاں اس کو بچانا ہی ہے کسی کو کہنا پڑا کسی IES کو IPS کو کسی senior official کو تو کہتا ہوں کرتے بھی ہیں لوگ پر اپنا کام ہو تو بہت کوشش کرتا ہوں کہ نہ ہی کہوں کبھی اشارم آئی ہے کسی بات پہ do you feel shame تو part ہے necessary part ہے جب آپ نے first time calculator بیچا تھا جب وہاں بیچتے تھے اور اب ایک پڑی لکھی family سے ہو آپ نے اچھا time دیکھا تھا پھر بورا time دیکھا اس میں shame نہیں آیا گھر کے ستیاں خراب ہوئیں کمانا ہے تو میں نے 11 سورو بیگ نوکر ایک تھی اس time پہ شرم آتی تھی کہ دوسرے دوست تو میرے کچھ یہ کر رہے ہیں میں اس سے بڑا clear تھا کہ اگر پڑی بار میں دکت آئی ہے اور میری ذمہ داری ہے کہ میں پیسہ کماؤں تو اس میں شرم کیا بات ہے اور اس سمیں میری عمرت تھی سترہ کیا اس وقت تو مجھے کیا نوکری ملتی ہے اس سمیں وہی نوکری مل سکتی تھی تو وہی نوکری کیوں میں نے یہ ضرور ہے کہ کسی کو بیچنے کے لیے جا رہے ہیں وہ خراب سے بولے گا تو خراب تو لگتا جائے اور سیلنگ میں تھوڑی شرم ویسے بھی آتی ہی ہے کیوں آتی ہی اپنے در زیادہ آتی ہے اپنے در سیلزمنٹ کو دیکھتے بھی غلط نظروں سے ہاں تو اسی سنس میں کہہ رہا ہوں مجھے دوستوں کے بیچ میں شرم نہیں آتے کہ میں یہ کام کر رہا ہوں نہ فیملی کو لے کے لگتا تھا صرف یہ کہ کسی کا سپیس ہے میں جا کے کہہ رہا ہوں کہ یہ خرید دو اس کو نہیں اچھا لگ رہا ہے بات نہیں کرنا چاہ رہا پر میں کوشش کر رہا ہوں تو کسی کی پرائیویسی انٹلیوٹ کرنے کی سنس میں تھوڑا سا سنکوچ ہوتا تھا
27:09پورا لگ جاتا تھا لوگ کچھ بول دیتے تھے ایسے ابھی ہوتا ہے کبھی کسی بات پہ when was the last time you felt humiliated humiliated مطلب اگر میں کہوں تو جیسے ایک سال پہلے ایک incident ہوا کی ہمارے تھوڑا دور ایک institute کی basement میں پانی بھرنے سے تین بچوں کی مرتی ہوئی ہم اس میں دور دور تک ہی نہیں تھے وہ نہ ہمارا institute تھا نہ ہمارا کچھ تھا سوشل میڈیا کا چمتکار یہ ہوا کہ اس کے بعد پورا دش میرے پیچھے پڑا گیا اور آج تک مجھے کئی ایسے لوگ ملتے ہیں جو مان کے چلتے ہیں کہ وہ انسیڈنٹ ہمارے انسیڈنٹ نہ ہوا تھا اب ایسا کوئی ویکٹی مل جائے اور کہے کہ ایسا کیسے ہوا تو برا رکھتا ہے اب کتنے لوگوں کو سمجھائیں گاؤں گاؤں تک اگر غلط فہمیں فیل گئی ہے تو کہاں کہاں تک جا کے سمجھائیں بھٹی یہ تو گلت فہمی اس میں کسی نے آؤٹرائٹ آپ کو نیچا نہیں دکھا میڈیا نہیں اور ٹھیک ٹھیک کئی چینلز میں بہت خراب ویڈیو بنائے میرا نام لے کے میری فوٹو ڈال کے ویڈیو بنائے کیونکہ اس سے ویوز زیادہ مل جاتے ہیں میں ان کی مجبوری بھی سمجھتا ہوں مجھے ان سے نفرت نہیں ہوتی مجھے مجبوری سمجھ میں آتی ہے کہ ان کا کام ہے ان کو ویوز چاہیے اسی پر ان کے کمائی ہونی ہے
28:32سال میں دو دن کا بھوجن میں ہوں تو وہ ایک دن تب آیا تھا اس دن میں بھوجن تھا تو سب نے شکار کیا اس میں کیا کر سکتے ہیں لیکن یہ لگتا ہے کہ اگر ہمارے یہاں ہوتا تو ٹھیک ہے ہم اس میں انوارڈ اگر ہیں ہی نہیں تو پھر کیوں پیچھے بڑھ جانا رہے ہیں گصہ نہیں آتا کہ اتنی محنت سے میں نے اتنی کریڈیبلیٹی بنائی ہے اتنا اچھا کام کر کے تم دو دن کے بھوجن کے چکر میں سب بگاڑ دیں اگر آپ تھوڑی سی فلوسفی سمجھتے ہوں اور جیتے ہوں تو گستانہ بند ہو جاتا ہے جیسے اس معاملے میں سچ بات یہ کہ مجھ سے زیادہ پڑھے لکھے مجھ سے زیادہ سمجھدار مجھ سے بہتر لاکھوں لوگ دیش میں ہیں پر اتنی پوپلارٹی ان کو نہیں ملی یہ بھی تو بائی چانسی ہوا ہوتا کیا کہ جب کچھ اچھا ہوتا ہے اس کو ہم مانتے کہ ہماری محنت سے ہوا ہے ہماری یوگتہ سے ہوا ہے یعنی ہم سے بڑے بڑے تیس مارکھاں بیٹھے بیٹھے سڑ گئے ہیں انہیں موقع نہیں ملا تو جو جو اچھا ہوا اس کو میں نے مان لیا میرا حق ہے اب اچھا ہوا میں پوپلر ہو گیا تو پوپلر ہونے میں ہی نہیں تھے کہ شکار بھی ہونا پڑے گا کبھی نہ کبھی تو یہ شکار ہونا اس پورے پیکیج کا پارٹ ہے جو آپ کو تککے سے مل گیا ہے تو جب آپ اس پہ خوش ہوتے ہو تو اس کو ساتھ ملے کے چلو یہ ایکسپ کر لیا ہے کب شروع سے یہ ایکسپٹڈ تھا یا ابھی ابھی کرا ایکسپٹ ملک ایک دو سال سے یہ مجھے سمجھنا شروع ہو گیا تھا اب اس کا ایک ریسنٹ بہت ریسنٹ ایکسامپل جو میں بات نہیں کرنا چاہ رہا پر ایک ایک ایکسامپل آپ کو دیتا ہوں ابھی دو مہینے پہلے خبر خوب چلے گی اس سی سی پی اے نے ہم پہ ایک فائن لگایا خوب بجنا میں ہوئی انٹرسٹنگ بات ہے کہ تین سال پہلے کا اماملہ ہے اور جتنے انسیٹیوٹس آئی ایس میں ہیں ان سب پہ فائن لگا ہے سب پہ فائن لگا ہے سب کی نیوز بھی آئی کسی کی بھی نیوز کو سوشل میڈی نے اٹھایا ہے نہیں پر جیسی ہمارا نام آیا ایک دن کا بھوجن پھر میک دن بھوجن بنا اب پورے دیش میں سب کو پتہ ان پہ فائن لگ گیا ہے لگا سب پہ ہے تو آپ کبھی کبھی سیلیکٹیولی شکار بنیں گے یہ آپ کی نیتی ہے کیونکہ یہ آپ جدہ پوپلر ہیں تو یہ مان کے چلنا چاہیے اگر سلمان خان بہت پوپلر ہے تو یہ مان کے چلنا چاہیے کہ باقی کوئی ایکسیڈنٹ کرے گا تو بچ جائے گا آپ نہیں بچیں گے کیونکہ آپ کو سماج نے وہاں پہنچایا بھی تو ہے تو آپ کی گلتی معاف نہیں ہوگی Part of the package
31:05Part of the package بڑا ایموشن سپریس کرتے ہو ایسے جب جب ری ایکشنز ہوتا ہے میں ہی بچولی ایسا کرتا ہوں ہی بچولی ایموشنز کو مارتا ہوں آپ تو اپنلی بات کرتے ہو ایموشنز کے بارے میں نہیں نہیں میں یہ کہتا ہوں کہ ایموشنلی ایکسپریسیو ہونا اچھی بات ہے لیکن میں یہی مانتا ہوں کہ میلز میں جنرلی این ایکسپریسیو ہو جانا ہوں کہ نیچر کا حصہ بن جاتا ہے اور جب سے یہ تھوپی ہوئی مہانتہ سوشل میڈیا نے لاد دی میرے اوپر تب سے میں تھوڑا اور کم ایکسپیسی بک کیونکہ دیکھیں کیا ہوتا ہے میرے ساتھ جو دو تین سنیوگ ہوئے ایک تو میں ٹیچر ہوں ٹیچر ہونے کا مطلب بھارت میں سپیشلی یہ ہے کہ بدیارتیوں کے نگاہ میں آپ کو ایک الگ لیول پر زندگی جی نہیں ہے مثلا اگر آپ کا من کر جائے کہ آپ سگریٹ پی لیں اپنے سٹاف کے سامنے کوئی دکت نہیں ہے کوئی آپ کو جج نہیں کرے گا میں نہیں پیتا ہوں سگریٹ مان لیجیے میرا پینے کا من کرج ہے اور میں سٹیڈنٹ سامنے سگریٹ پی لوں کبھی تو لوگ جج کریں گے کیونکہ ٹیچر کے لیے مانا گیا کہ اس کی الگ نیتک زندگی ہونے چاہیے تو اگر آپ ٹیچر ہیں اور پوپلر ہیں تو آپ کو بہت ساری ایسی سہستہوں سے دور رہنا پڑے گا جو کسی کے لیے نورمل باتیں ہیں فیر پھر میں ایک کمپنی رن کرتا ہوں جس کمپنی میں قریب دو ہزار لوگ کام کرتے ہیں میں اس کمپنی میں ایم ڈی بھی ہوں فاؤنڈر ہوں اس کا اب جتنے لوگ وہاں کام کرتے ہیں چاہے وہ ٹیچرز ہوں چاہے ایڈمن سٹاف کے لوگ ہوں ان کے ساتھ بھی میں دوست نہیں ہو سکتا اگر میں دوست ہوا دوستی بڑھ گئی تو پھر پروفیشنل بات ٹھیک سے نہیں کر پاؤں گا پروفیشنل بات کرنی ہے تو دوستی نہیں بڑھانی ہے تو نہ میں کلاس روم میں دوست ہو سکتا ہوں نہ ٹیچر سے ہو سکتا ہوں نہ سٹاف سے ہو سکتا ہوں نہ ٹاپ منیجمنٹ سے ہو سکتا ہوں میں جس پاریوارک پیشتھے بومی سے نکلا ہوں میرے جو دوست سکول کالج کے تھے میں پڑھنے میں سہاراں سہ ساتھ تو میرے دوستی ویسے ہی تھے جنرلی ان میں سے بہت کم لوگ ہیں جو کافی سفل ہوئے وہ بہت موڈسٹ لیول پہ زندگی جیتے ہیں وہاں بھی مجھے لگاتار یہ کوشش کرنی ہوتی ہے کہ کبھی کسی کو یہ نہ لگ جائے کہ یہ بڑا جنگ ہے
33:32تو یہ آپ کو بھی کرنا ہی پڑتا ہوگا جب آپ ان دور جاتے ہوں گے کرنا ہی پڑتا ہوگا دو لوگوں کے سمند میں ایک وقتی بائیچنس آگے نکل گیا ہے تو اس کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ دوسرے کو لگتا ہے یہ فیل کروائے کہ میں ویسا ہی ہوں تو مجھے ہر لیول پر یہ فیل کروانا ہوتا ہے کہ میں ایسا ہوں بے شک میں ویسا نہیں ہوں اس لیے پریٹنڈ کرنا میری جیون کا سامانے حصہ ہے اس لیے ایکٹنگ کرنے پڑتی ہے اس لیے ایمیج کے ساتھ چلنا پڑتا ہے اچھی بات نہیں ہے اور اس لیے جب میں ممبئی میں آتا ہوں میں تھوڑا سا ریلیوڈ فیل کر رہا تھا کیونکہ یہاں مجھ پر دباؤ کم رہتا ہے تھوڑا زیادہ ایکسپریسیو ہو سکتا ہے دلی میں زیادہ ہوتا ہے دباؤ but do you feel کہ سارے من کو forget آپ کی لائف کسی پبلک فگر کی لائف normal day to day زندگی میں بھی اگر آپ if you are a man آپ کو زیادہ ایکسپریسیو ہونے پہ پنش کیا جاتا ہے in some sort اگر آپ آپ کو بس یہ ایکسپیک کیا جاتا ہے کہ آپ ایک پروٹیکٹر ہو آپ باہر جاؤ دنیا سے جیت کے آؤ اور گھر آ کے واپس پروٹیکٹ کرو کیونکہ آپ اگر دکھاؤ گے کہ آپ روتے ہو تو آپ ویک ہو اگر آپ دکھاتے ہو آپ گصہ کرتے ہو تو آپ ٹاکسک ہو اگر آپ دکھاتے ہو اگر آپ آپ دنیا سے افیکٹیڈ بودھرڈ چڑھ چڑھے دکھاتے ہو تو آپ کیسا لگتا ہے کیا کیسا ہے یہ تو آپ کوئی بھی ایموشن جو بہت نیچرل ہے اگر آپ وہ دکھاتے ہو تو آپ کو زیادہ اچھی ویلیو نہیں دی جاتی ہے تھوڑا سا اس کو اگر ایولیوشن کی کہانی سے جوڑ کے دیکھیں دیکھیں ہماری پوری ہیومن ہیسٹری کے ہومو سیپینز کے ہیسٹری کے تین لاکھ سال میں مشکل سے پانچ ہزار سال سے ہم نے دھرم پرمپرائیں یہ سب چیزیں شروع کی ہیں لیکن اس تین لاکھ سال میں اور اگر اس کے پیچھے میں ہومو سیپینز بننے سے پیچھے کا بھی جوڑ لوں تو کئی لاکھ سال ایسے ہیں جس میں ہم جنگلوں میں اور ہم سب ستیوں میں رہے ہیں تو ہوتا کہہ کہ جو میملز میں ایسے بہت سارے سپیشیز ہیں جہاں پر بائی پیرنٹل یہ جو نرچرنگ ہوتی ہے بچے کی بہت ضروری ہوتی ہے ایک پیرنٹ کے بس کی بات نہیں ہوتی ہے ہیومنز بھی ان میں سے ایک ہیں اور جزیس پیشیز میں عام طور پر چار سے پانچ پرسنٹ میملز میں فیملی سٹکچر دکھتا ہے جزیس میمل میں ایسا دکھتا ہے وہاں بائی ڈیفولٹ ایک ڈیویزن رہتا ہے کہ دونوں پیرنٹس میں سے ایک بچوں کو بچائے گا ایک باہر جا کے چیزوں کو اکٹھا کرے گا نائنٹی نائن پرسنٹ آف دو ہیومن سوسائٹیز میں یہ ڈیویزن بڑا سمپل رہا ہے کہ میل باہر سے اکٹھا کر کے لائے گا فیمل گھر کے اندر بچوں کو سنبھالے گی اور بچائے گی 99 % میں کہہ رہا ہوں کیونکہ یہ ایک exception ہے اس کا تو ہم نے اپنی ہسٹری کے 99 % of the time میں شکار کیا ہے چیزیں اکٹھے کی ہیں جب شکار کرنے جاتے ہیں تو شکار ہونے کا خطرہ بھی ہے کیونکہ ٹائگر بھی تو نکلا ہوگا باہر اس کو بھی شکار کرنا ہے ہمیں بھی شکار کرنا ہے
37:00اور اس سمیں آپ کے پاس رونے کا option نہیں ہوتا اس سمیں تو آپ کا frontal cortex کام کرتا ہے planning کام کرتی ہے testosterone کام کرتا ہے جو بہتہ تیجنا پیدا کرتا ہے آخرام اقتا پیدا کرتا ہے بنمر ہو ہی نہیں سکتے وہاں پر بنمر ہونے کا مطلب ہے مرنا second thought کا مطلب ہے مرنا اور balance ہونے کی شرط ہے کہ second thought آپ کے دماغ میں ہے تو balance اس چوشے میں ہو ہی نہیں سکتے ماں تو ایک ہی بات ہے کہ بس مار رہا ہے کسی بطر ایسے اب ہتھیار بنا رہے ہیں یوجنا بنا رہے ہیں سارے میلز مل کے ہنسہ کر رہے ہیں شکار کیا لے کے آئے اسے ایموشنل لائف سے بہت مطلب ہے نہیں اسے گھر کے چک چک بہت پسند نہیں آتی ہے اس کے لئے پریوار کا مطلب صرف اتن ہے کہ اس کے سیکسول نیٹس پوری ہو رہی ہیں چھوٹا بچہ ہے بچے کو اس نے پیار کر لیا کیونکہ بہت پیچھے جائیں تو میل فیملی کا نورمل پارٹ ہے بھی نہیں آپ دیکھیں گے ادھیکان سپیشیز میں بچہ ہونے کے بعد کیول بچہ اور ماں رہتے ہیں باپ نہیں ہوتا آپ ڈاکس میں دیکھئے باپ کبھی نہیں دیکھے گا منکیز میں دیکھئے باپ نظر نہیں آئے گا کبوترو میں کچھ سمیت نظر آتے ہیں بہت کم سپیشیز میں باپ فیملی کا حصہ ہے یہ ہسٹوریکل فنومنہ ہے یہ نیچرل نہیں ہے فیملی کا حصہ نہیں ہے نیچرلی حصہ نہیں ہے فیملی کا کلچرلی سوشلی وہ حصہ بنتا گیا بنتا گیا کب بنا جب تھوڑی سیفٹی آ گئی سیٹلمنٹ ہونے لگیں کھیتی شروع ہو گئی اب اتنا خطرہ نہیں ہے شکار نہیں کرنا ہے اب ٹائم ہے اس کے پاس اب اتنا ہی ہنسا نہیں کرنی ہے اتنا ہی ہنسا نہیں کرنی ہے تو ٹیسٹسٹورنگ کا لیول بھی ویسا نہیں چاہیے تھوڑا وینمر ہو سکتے ہیں اب سمیں ہے تو پڑی بار میں گزرتا ہے گھر میں ہے تو بچوں زیادہ بات کرتا ہے پتنے زیادہ بات کرتا ہے وہاں سے پھر شکچرز بننے شروع ہوتے ہیں کہ منوگیمی ہونے چاہیے ویمن رائٹس بھی ہونے چاہیے جنڈر ایک وائلٹی ہونے چاہیے بچوں کے رائٹس ہونے چاہیے تو آدمی 99 % of the civilizations اور cultures پچھلے کچھ سو سالوں میں ہزاروں سالوں میں اس پروسس سے ایڈپٹ کر رہا ہے اب وہ دھیر دھیر ایموشنل بھی ہونے لگا ہے کئی گھروں میں آپ دیکھیں گے جو میل سے بڑے ایموشنل ہیں بچوں کو لے کے روتے بھی ہیں کئی گھروں میں آپ دیکھیں گے فائدر مدر بچے مل کے گانا کر رہے ہیں پر اگر آپ کسی فیوڈل سوسائٹی میں تو باپ ایسا کرتا وہ نظر نہیں آئے گا آپ کو جہاں سیمیٹریکل فیملی زیادہ بن گئی ہے وہاں ایسا دکھائے گا آپ کو تو بچہ باپ اپنی بیٹی سے بہت پیار کرے اور دکھائے بھی بیٹے سے بہت سنیہ کرے دکھائے بھی یہ نیا فینومنہ ہے جو نئے سمازوں میں آ رہا ہے اس لیے اگر کوئی فادر بہت ایکسپیسیو نہیں ہے تو لاکھوں سالوں کی تو وہی ہسٹری ہے دھیرے دھیرے سیکھ رہے ہیں اور رات سے کچھ ہزار سال بعد شاید یہ کومن ہو جائے گا بہت کومن ہو جائے گا مشکل ہے جیسے اگر آپ حریانہ سے ہیں پنجاب سے ہیں پچھے میں اتر پر دیشتے ہیں تو بہت مشکل ہیں
40:18ممبئی میں ہیں تو شاید دیکھ جائے گا بینگلور میں دیکھ جائے گا پونہ میں دیکھ جائے گا پڑھنا ملٹپل ریسرچز بھی کی گئی ہیں on developed society also یہاں پہ developed ہیں دو individuals ساتھ میں رہتے ہیں اتتی زیادہ اور almost similar roles ہیں دونوں کام کرنے جاتے ہیں گھر آتے ہیں ان societies میں بھی بہت ساری لڑکیوں سے پوچھا گیا ملٹپل بار الگ الگ الگ الگ thinkers نے researchers نے universities نے research کری وہ بولتی ہیں کہ انہیں vulnerable men اچھے لگتے ہیں جو vulnerability دکھاتے ہیں جو اپنے emotions دکھاتے ہیں that's great پر سب نے جب partner choose کرنے کی بات آئی تو وہ نہیں choose کرتے women don't choose vulnerable partners because they feel سمہاو کہ یہ ویکے بچا نہیں پائے گا ایولیوشن کی بھاشا میں اگر اس کو دیکھیں تو میل اور فیمل سیلیکٹ کیسے کرتے ہیں پارٹنر اپنا تو بہت سیمپل کونسپٹ ہے ایک جو کورک نام کے رائٹر ہیں ان کی کتاب ہے ایٹس نوٹ یو ایٹس بائیولوجی بہت فیموس کتاب ہے ایولیوشنری سائیکولوجی پر بیسٹ ہے آپ کتنا بھی ایکٹنگ کر لیجئے کہ میں اپنا جیون ساتھ ان ان پیرامیٹرز پہ چنوں گا اس سب کہنے کے باتیں جب ڈیسڈن ہوتا ہے تو آپ کا دماغ اس میں کام نہیں کر رہا ہوتا ابھی تو نیورو سائنس ہی ثابت کر رہے ہیں کہ ہم جب سوچتے ہیں اس کے پہلے فیصلہ ہو چکا ہوتا ہے ہمارے نیورونز کے لیبل پہ کیسے ہم ڈیسائیڈ کرتے ہیں تو ہمارا سب کانشیس انکانشیس کام کرتا ہے اور وہ ایولیشن کے پرنسپل پہ کرتا ہے آدمی کو وہ عورت سمجھ میں آتی ہے انکونشسلی جو اس کے سوست بچے کو پیدا کر پائے گی اور اس کا پارن پوشن کر پائے گی پوری ایسٹھیٹکس اسی پہ ٹکی ہوئی ہے میل نظر کو فیمیل کی وہی فگر سمجھ میں آتی ہے جس میں بوڈی کی وہی پارٹس ڈیولپٹ ہیں جو بچے کو جنم دینے اور بچے کو پوشن دینے کے لیے کام کریں گے یہ انکونشسلی یہی ہے اس سب انکانچیس لیول پہ ہے آپ کتنا بھی ایکٹنگ کر لیں ہاں اس بیوٹی کونسپٹ میں جو کلر والی بات ہے یہ ڈیولپمنٹ کے ساتھ کلچر کا پارٹ ہے کیونکہ نیچورلی بلیک بیوٹیفل نہیں ہے اور وائٹ بیوٹیفل نہیں ہے یہ بیکار کی بات ہے یہ ریسزم ڈیولپ ہوا صدیوں کے ساتھ لیکن جس کو ہم لوگ ایسٹیٹکس میں فگر کہتے ہیں سوست چریر کہتے ہیں اس کا کونسپٹ بیسیکلی انکونسیس مینٹ میں وہی ہے تو جب کوئی کہے کہ وہ مجھے اچھی لگتی ہے اس کا انکونسیس مینٹ یہ بتا رہا ہے کہ یہ سوست بچے کو جم دے پائے گی اور پال پائے گی اس کو فیمل کے لیے کیا ہے ایوولیوشن میں دیکھئے شکار کرنا ہے بہت خطرہ ہے عورت کو باقی مردوں سے بھی خطرہ ہے بانا تو بیوہ سنسب نہیں ہے نہ سوسائیٹی ڈبلپ ہوئی ہے نہ قانون ہے نہ جھوڑی شریح ہے نہ پولیس سے کچھ نہیں ہے وہ کیسے بچائے باقی مردوں سے اپنے آپ کو اسے ایک ایسا مرد چاہیے ایک ایسا آدمی چاہیے جو اسے باقی مردوں سے بچا لے تو دوسرا اسے ماں بنا دے اور تیسرا جب وہ گربہ وستہ میں ہوگی یا بچہ ہو جائے گا بچے بار بار ہوں گے نا ایک بچہ ہوگی ہے دوسرا پیٹ میں دس بچے ہونے پندرہ بچے ہونے اس سمائے تو تو اس پورے پندہ بیس سال کے پروسس میں جب بچے چھوٹے ہیں یا پیٹ میں ہیں تب میرے لیے باہر سے کھانا لے آئے گا اتنا سوسط ہونا چاہیے کہ یہ نہ ہو کہ منیج نہیں کر پا رہا تو باقی مردوں سے کون بچائے گا جو طاقتور ہوگا کھانا کون لا پائے گا جو طاقتور ہوگا وہی شکار کر پائے گا اس لیے سب کونشیس انکونشیس میں مہلا کو چاہیے سرکشہ باقی مردوں سے اور انسیکیورٹی آف فوڈ چھوٹے بچوں کی پرورش کے لیے تو ہم کتنی بھی کوشش کر لیں جب جب ہم سیلیکشن کر رہے ہوتے ہیں آدمی لوگ اس سے آپ کتنا ہی پوچھ لیجئے دس پیرامیٹرز پتہیں گے لیکن سیلیکشن کے ٹائم پر سندرتا نمبر ایک پہ آ جاتی ہے اور سندرتا بھی دھیان رکھنا ہے سندرتا دماغ کے اندر وہی ہے ایسی محلاؤں کا ہے ولنرے بل اچھا لگتا ہے democratic لگتا ہے symmetrical family لگتا ہے کہ ہاں تم روتے ہو مجھے اچھا لگتا ہے لیکن زندگی گزارنے کے لیے دماغ میں آتا ہے وہ جو مجھے سنبھال سکے اگر آپ evolutionary psychology کو پورا ٹھیک مانتے ہیں تو یہ ویاکیاں پوری ٹھیک ہیں لیکن evolution کے process بھی ایسا نہیں ہے کہ وہ رگ گئے کہیں اب مان لیجیے کہ کوئی بچہ بومبے میں پیدا ہوا اور اس کے parents کافی حد تک symmetrical ہیں دونوں نوکڑی کرتے ہیں دونوں گھر آتے ہیں پیار سے بات کرتے ہیں ان کے اندر وہ ٹیسٹوسٹورن والا ایسا نہیں جیسے کہ پاپا ہمیشہ گصہ کریں گے یا رڑائی کریں گے ایسا نہیں بہت سوفٹ پاپا ہے ممی بھی سوفٹ ہیں اچھی پروری بھی بچوں کی دونوں نے خوب پڑھا ایک کی سوشیولجی پڑھا سائیکولوجی پڑھا یہ بچے جب اپنا جیون ساتھ ہی دھوننے گے تو کیول وہ کام نہیں کرے گا جو ان کے گھر میں لرننگس ہیں وہ بھی تو کام کریں گے اس لیے ایسے لوگ بھی آپ کو مل جائیں گے جو ایسی لڑکی ہیں جو اپنے جیون ساتھی کو روتے ہو دیکھنا چاہیں گی اور ایک contradiction یہ بھی ہو سکتی ہے کہ وہ چاہیں کہ اکیلے میں کبھی کبھی میرے سامنے روئے اور دنیا کے سامنے شیر بن کے کھڑا ہو ایسی آدمی کے ساتھ ہوگا کہ مجھے بہت سندر مجھے بہت fit قسمان کی پتنے چاہیے تو ان اکیلے میں اگر وہ پریشان ہے ویک ہے بیلوجی کے لیے اپسیٹ بھی ہے تو پریم تو ہی نا بھی اس کو بھی ایک لمبے سمیہ میں پریم تو ڈیبلوپ ہو ہی جاتا ہے تو evolution ایک بڑا فیکٹر ہے psychology کو سمجھنے کے لیے it is not the only factor but it is one of the major factors what do you feel what's better love marriage arrange marriage پہلا سوال ہے کہ marriage یا no marriage ایک تو پہلا سوال marriage یا no marriage ٹھیک ہے marriage یا no marriage مجھے ایسا لگتا ہے کہ فیوچر میریج کا بہت سیف نہیں ہے کیوں پھر ایک بات ہے ایولیوشن کا منٹسٹ کہیں یا بیسے منٹسٹ کہیں ہر انسان کے دماغ میں انسانیں نہیں ہر سپیشیس کے دماغ میں ہر پانی کے دماغ میں تراجو رکھا ہوا ہے اس کے ایک طرف کوسٹ ایک طرف بینیفٹ ہے آپ کہیں نہ کہیں آپ کے دماغ میں چوبیس گھنٹے وہ تراجو ایکٹیو رہتا ہے ہر چیز میں ہر human relation ultimately یہاں تک کہ family کے اندر بھی اسی system پہ کام کرتے ہیں ماں اور بچے کا relation especially جب بچہ بہت چھوٹا تو تھوڑا سا اس کو unconditional love کہہ دیتے ہیں otherwise ہر human relation اسی بیٹی کا ہوا ہے شادی چھوڑ کے باقی سارے رشتے almost سارے رشتے family والے given ہیں میں اپنے پیدا جی کو نہیں چن سکتا ماں کو نہیں چن سکتا بھائی بہن نہیں چن سکتا وہ تو given ہیں جہاں given ہے وہاں دماغ اتنا چلتا نہیں کہ فائدہ ہے کہ نقصان ہے چوئیس ہے ہی نہیں ہے تو ہے کبھی کبھی آپ دکھی ہو سکتے ہیں کہ اچھا باپ مل جاتا اچھا بھائی مل جاتا اچھی بہن مل جاتی کبھی کبھی خوش ہو سکتے ہیں اچھا وہ وہ نہیں ملا میرے والے جیسے اچھی ہیں پر چوئیس نہیں ہے وہاں پر آپ کے پاس ہماری پورے زندگی میں ایک رشتہ جہاں چوئیس ہے family relations کی بات کر رہا ہوں وہ سپاؤس ہے اور یہ بھی تائے ہے کہ سپاؤس کا امپیکٹ ہمارے جیون پر سب سے زیادہ ہے انیشل پارٹ آف لائف چھوڑ دیں موٹے دور مانے جی پتچیس کے عمروں میں شادی ہوئی تو پتچیس سے لے کے پیچھتہ رسی نبج ہو بھی ہے لگ بھر تھری فورس آف در لائف اسی کا امپیکٹ رہنے والا ہے اور چوبیس ہنٹے کا امپیکٹ ہے نہ ماں کے ساتھ چوبیس ہنٹے نہ باپ کے ساتھ نہ بھائی کے ساتھ نہ بہن کے ساتھ مہا چو بیز ہنٹے کا ہے زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ ہے شادی تو کوسٹ بینیفٹ کا طرازو سب سے آزا ایکٹیو رہتا ہے یہ الگ بات ہے کہ شادی کم عمر میں ہو گئی جب تک آپ کے دیولپ ہی نہیں ہوا تھا تو آپ سوچ سے نہیں اموشن سے بہت کے حادی کر لیتے ہیں اٹھارہ بیس بہن سال کے باتے ہیں پیار ہوا بھاگے شادی کر لیتے ہیں وہ ایک الگ بات ہے
48:46ہو گیا ہے تراجو ٹھیک سے ڈیولپ ہو گیا ہے آپ دیکھیں کہ جو پچھے سک شاہدیں نہیں کرتا پھر اکثر وہ لیٹ ہو جاتے ہیں پھر وہ تیس ہو گیا پیتیس ہو گیا تراجو ہوت ایکٹیو ہو گیا ہے اب ان کو ہر معاملے میں لگتا ہے کہ یار بینیفٹ زیادہ ہے کہ کاؤس زیادہ ہے وہ نوٹس بناتے ہیں لسٹ بناتے ہیں روز کونس گیا ہے کونس گیا ہے اور ہمیشہ لگتا ہے کہ یہ پیکش ٹھیک نہیں ہے اس میں لاز زیادہ ہے in totality مجھے ایسا لگتا ہے کہ near future میں merit system اپنے آپ میں جتنے benefit دے گا اس سے زیادہ problems دے گا تو جو جن Z ہے اب بھی جن Z والے شاید ہوں گے جن alpha ہے اس میں tendency یہ بڑھے گے کہ لوگ شادی نہ کریں اور جیسے جیسے سمائے آگے بڑھے گا یہ tendency اور بڑھے گے کہ شادی نہ کریں یہ میرا انمان ہے being a student of sociology and psychology مجھے لگتا ہے کہ ایسا ہوگا کیوں کیونکہ شادی سے جو benefits ملتے تھے وہ بینہ شادی کے ہی مل رہے ہیں بھئی پرانے زمانے میں لوگ شادی کیوں کرتے تھے کیونکہ ان کو sexual needs fulfill کرنے کا ایک ہی راستہ شادی یا تو red light area میں آپ جائیں گے males کوئی option مل جائے گا پر یہ کوئی ایسا option تو ہے نہیں کہ آپ اس کے بھروں سے زندگی گزاریں گے نہیں تو ایک ہی طریقہ سماز نہیں کہ راستہ چھوڑ رکھا ہے شادی سیکسوال نینڈ سے ایک عمر کے بعد پریشان کرتی ہیں وہ آپ کو پوری کرنے ہی ہیں تو شادی کر لو اس لیے کلچر کیا تھی لڑکیوں کے پیرنٹس بہت زور لگا دے تھے کہ بیٹا شادی سے پہلے ملنا نہیں ہے بہت بات میں ہوا تو مو دکھائی کر لو ملنے کے ٹائم پہ دو میڈے بات کر لو اکیلے میں لیکن ملنا نہیں کیونکہ لوگوں کو آئیڈیا ہے کہ وہ خمار چار دن دس دن بیس دن میں ختم ہو جائے گا اور پھر ہو سکتا ہے سپیشلی لڑکے کے معاملے میں ہو سکتا ہے کہ اس کو لگے کہ نہیں اس خمار کو اترنے سے پہلے ہی شادی کروا دینا ہے زندگی بھر کا انشورنس لینا ہے کیونکہ لڑکیوں کے پاس اس سمیں نوکری نہیں ہے بڑھائی لکھائی ہے نہیں سماج نے بھیجے ہی نہیں پڑھنے لکھنے کے لیے نوکری کیول بیٹا کرے گا کھیتی کبل بیٹا کرے گا باہر کا سارے کام بیٹا کرے گا کما کے بیٹا لائے گا بیٹے کی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے دلہن آئے گی دلہن کے پاس USP کیا ہے کہ وہ اس کی ایک نیٹ کو پورا کر سکتی ہے دلہن سے کوئی پوچھے گا ہی نہیں کہ تمہیں لڑکا پسند ہے کے نہیں ہے کوئی نہیں پوچھتا تھا اور سب کو پتا ہے لڑکی کے باپ کو بھی لڑکے کے باپ کو سب کو پتا ہے کیونکہ وہ بھی اس دور سے گزرے ہوئے ہیں کہ سیکسول نیڈز کچھ سمیے کے بعد جب کم ہوتی ہیں یا من بھرنے لگتا ہے تو بیوانی ٹکتا ہے اس کے بعد تو دو سسٹم ساتھ دیکھیں گے پرانے سمازوں میں ایک تو شادی سے پہلے مل ملپ نہیں ہوگا دوسرا شادی کے بعد تلق نہیں ہوگا چاہے آپ کیتھلکس میں دیکھیں یہودیوں میں دیکھیں ہندووں میں سیکھوں میں جینوں میں بہتوں میں دیکھیں مسلمز اس کے آپ واد ہیں تھوڑے سے ڈیورس نہیں ہوگا کیونکہ ڈیورس سے دروازہ کھول دیا تو لین لگ جائے گی تو موقع دینا ہی نہیں ہے باندھ لینا ہے اب آج کے سماج میں کیا ہے لڑکیاں خوب پڑھتی ہیں کالیج جاتی ہیں ان کی نوکری ہے کریئر ہے میں سپیشلی بومبی دلی کی بات کر رہا ہوں گاؤں میں بھی وہی چل رہے ہیں اب یہاں ڈیٹنگ سائٹس ہیں نوکری میں لوگ ملتے ہیں سکول کوریج میں لوگ ملتے ہیں ہزاروں انٹریکشنز ہیں اگر پریم ہو گیا کانون آپ کے فیضر میں ہے اگر آپ 18 پلس کے ہیں یا دونوں بچے 18 سے کم کے ہیں یا دونوں 18 سے اوپر ہیں کانون پرشان نہیں کرتا آپ کو کوئی روک ہی نہیں سکتا کوئی پولس کوئی سماج آپ کو منع کر ہی نہیں سکتا پریم کرنے سے لیگلی تو آپ کر رہے ہیں سوشل میڈیا آپ دیکھ رہے ہیں ریل لگاتر دیکھ رہے ہیں ٹی وی دیکھتے ہیں فلمیں دیکھتے ہیں ہر جگہ ویسا ماحول ہے dating sites پہ line لگے ہوئی ہے آپ کوئی تنے options مل جاتے ہیں حالانکہ اس میں خطرے بھی ہوتے ہیں بہت incidents ہیں options تو ہیں پہلے خطرہ کیا تھا کہ اگر physically intimate ہو گئے وہ لڑکی pregnant ہو گئی تو زندگی ختم یہ سب سے بڑا خطرہ آ رہا ہے ہم نے literature میں دیکھا ہے ہزار سال کے literature میں لگ بگ ہر صدی میں کچھ ایسی رچنائے ہیں جہاں مہیلہ pregnant ہو گئی اور زندگی ختم ہو گئی اس سب سے بڑا خطرہ رہا ہے ہیومینٹی کے دیوارا میں انیمالز میں خطرہ نہیں ہے کیونکہ ہاں شادی کی سسٹم نہیں ہے ہیومینٹس میں ہے کیوں ختم ہو گئی کیا 1961 میں پہلا کانٹرسیپٹیو UK میں آیا جس میں یہ ہوا کہ ملکہ بہلاوں کے لیے تھا ایک پل تھی اس کو لوگوں نے میجک پل بولنا شروع کیا وہاں پر وہ پرگنینسی کو رکھ سکتے تھی 1961 کے بعد کانٹرسیپٹیو بہت سارے آگئے پہلی بار دنیا اس سطح میں ہے جہاں فیزیکل انٹیمیسی کے بعد بھی آپ مانا بننا چاہیں تو نہ بنیں زبردستی نہیں جب یہ ہو جائے گا اوپن نیس ہے ہی لوگ مل رہے ہیں باہر ان میں سے بہت لوگوں کو شادی کرنے کی ضرورت کیوں لگے گی ایک بہت بڑی سنکھای میں لوگ ہیں جن کے لئے شادی کا اتنا ہی مطلب تھا انہیں وہ سب مطلب نہیں تھا کہ دو لوگ رہیں گے آتما تن من ویچار ملیں گے اور ہم لوگ کمپینینشپ وہ سب تو شہری قسم کی باتیں ہیں ایک عام جو بچہ ہے جو پڑھا لکھا نہیں ہے مزدوری کرتا ہے ویسی اس کے دوست ہیں ان کی بہت شامی جب بات ہوتی ہے تو شادی کسی لی کی جاتی ہے کہ ایک لڑکی چاہیے ضرورتیں پوری کرنے کے لیے اور بچے چاہیے اور وہ لڑکی گھر میں آئے گی گھر کا ماحول ایسا ہے کہ وہ اس میں ڈھل نہیں ہوگا اس کو کیونکہ کلچر یہ بھی ہے کہ ڈولی یہاں سے گئی یہ ارثی وہاں سے اٹھے گی واپس نہیں آنا ہے الگ نہیں ہونا ہے ڈیورس کا قانون ہمارے سماز میں 1955 میں آیا ہے 1955 سے پہلے کوئی ہندو سکھ جین یا بود تلاک لے ہی نہیں سکتا تھا 1955 ابھی صرف ستہ سالوں میں ہیں تلاک آپشن نہیں ہے سنسکار ہے گی لڑکی واپس نہیں آئے گی پنمائکے میں لڑکی واپس نہیں آئے گی تو کہاں جائے گی سفشال میں ہی رہنا ہے اور محبتی کی ضرورتیں پوری کرنی ہے یہ ایک سیٹ اپ تھا جو دنیا کی عدیقان سماجوں میں تھا اب ایسے بہت سارے آپشنز ہیں اگر کسی کو شادی کیول اس لیے کرنے تھی کہ میرے نیٹس پوری ہوں ہزار آپشنز ہیں
55:27performance Y no, you think बोलते हैं वो लोग उनको Double Income Noquets या सिंक हो गया Single Income Noquets है चाहिए नहीं बच्चे हम पूछें कि बच्चा क्यों नहीं चाहिए बोलते हैं हमने पूछा कि आपको क्यों चाहिए आपकी चोई साब को चाहिए हमारी चोई साब में नहीं चाहिए तो जिसको बच्चा चाहिए यह नहीं उसके लिए शादी का क्या मतलब था नीट्स पूरी हो जाए एक दोस्त मिल जा जंदगी भर के लिए दोस्त वैसे मिल सकते हैं को लिविंग में मिल जाते हैं को लिविंग में यह उप्शन भी है कि आप एक समय के बाद नहीं compatible आरा हो जाए है क्यों साथ रहना है दोनों पढ़ाय लिखे हैं दोनों समझदार हैं confident हैं, secure हैं कोई insecurity है नहीं तो क्या परशानी है उनको इसलिए जिस गती से लोग पढ़ लिख रहे हैं बड़े शहरों में रहे हैं कमा रहे हैं openness जो उनके thoughts में आ गई है cross gender जो interactions की quantity और quality बढ़ गई है global culture का जो impact है America में, France में क्या हो रहा है वो हम यहाँ पर देख रहे हैं ठीक ठाक chances हैं कि शादी का impact कम होता जाएगा अभी भी history में highest number of single लोग आज है पर जलनवे है, मुचे एस्वेक नहीं पता बर फिर बावर इक रॉर्ण ही It's a definisive अजई है, अजई है ताओ अजए है। बॉजपन के इदू स्वेह है है थीपमिपेमिन शीखेन है नक बनाफो नीजओार उठाओ नडाद होती है क्या है?
57:14नहीं, committed क्या है? Non-monogamy वाला एक शब चलता है आजकर जिसका मतलब भी है कि हम transparent है पर non-monogamous से हैं और हमारे अंदर एफे या polyamorous relationship अप सुमते होंगे polyamorous relationship do you feel लोग polyamorous ही होते हैं? polyamorous से लगे, polyamorous है एकदम लग लग बाते हैं नहीं, by birth do you feel humans येस, येस, येस, बेरी मच not even humans, even the आनिमल्स तो are there most of the animals are आनिमल्स के बात नहीं, birds के बात करो, birds के बारे में ये गलत फेमी रही है लम्बे समय तो कि वो monograms होते हैं लेकिन जब DNA fingerprinting से रिसर्च होई तो पाया गया कर cał, दर दर दूसेर decide mi की čार टाइप्स होते है एक होता है mental monogagamia कि मेरे दिमाग में भी किसी और कर विचार नहीं आएगा एक होती है sexual monogamia कि दिमाग में बेश tha रहे पर relationship एक से रहेगी एक होती है genetic monogamie कि relations किसी से बनते रहें पर माबब बनेंगे तो हम दोनों ही बनेंगे किसी और के साथ नियुक्त नियुक्त एक होती है social monogamie कि माबब किसी और के साथ बन भी गए ना तो समाज को देखेगा यही कि हम दोनों पदी पत्नी है और यह हमारा बच्चा है ऐसे बहुत बच्चे हैं जो उन पेरेंट से साथ नहीं है जो दरसल जिसके हैं ऐसी कहावते हैं Mother's Baby, Father's Maybe एक ऐसी कहावत बहुत पसिद्ध है African कहावत है यह एक British कहावत है Mother is a fact, Father is a faith भाई DNA finger printing से पहले कोई कैसे claim कर सकता था कि ये मेरा बाप है कि नहीं है तो भरोसा है अब DNA finger printing से पता लग जाता है और ये तो मुश्किल से पिछले 50 साल की बात है 30 साल की बात है तो 30 साल पहले तक दुनिया में केवल भरोसा चल रहा था अभी ब्रिटेन में शाही परिवार के एक बच्चे का जब जनिटिक स्ट्चर देखा गया तो उसके जीन्स में इंडिन जीन्स भी देखे रहे हैं आप किसी का भी निकाल लेंगे पूरी कुंडली तो विश्वास उठ जाएगा पीछे की किसी ना कैसी पीड़े में कभी न खर भी ऐसा हुआ होगा तो भरों से दुरिया चल रही है ये बारों सही पे है और क्या है तो social monogamy हम लोग social monogamy में आम तूर पर रहते हैं तो मेरा मानना यह है पक्षियों के बार में भी ये मानना गया finally अरे उन में social monogami है उन में एए उन के बात है humans के बारे में सामाने धारना यही है कि mental monogammy तो impossible उन आइ चैलिए, sexually monogamous मेरे ख्याल से ठीक ठाक संख्या में लोग होते हैं जिसमें एक बड़ी वज़ा है कि उनके पास ऐसी opportunities भी नहीं होती है एक tribal महोल में आपके शादी हुई, वहाँ इतनी बंदेशें हैं कि कोई संभाव नहीं नहीं है और अगर अपने गलती की तो सीधे murder हो जाएगा तो कई लोग रहेंगे जिंदगी बर जिंदगी बर relationship में ही नहीं रहेंगे और रहेंगे तो एक से रहेंगे इसे लोग बहुत सारे हैं लेकिन मेरे ख्याल से human society, एकर nature की बात करें human beings की, especially if you are talking about males तो monogammy एक cultural construct है वो natural phenomena नहीं है Why you said males?
1:00:57women में नहीं होता है? women की मामले में उतना नहीं मानते है उसकी वज़े यह है कि जब दोनों में interaction होता है दो वज़ों से ऐसा कहा जाता है मैं ये नहीं कह रहा कि females में नहीं होता है मैं कहा रहा विखे लिए to a great extent females में भी ऐसा हो सकता है लेकिन दू रीजन्स इसको थोड़ा सा अलग कड़ते है पहला रीजन ये है कि जो emotional love है general perception ये है कि आदमी का emotional love बहुत तेज़ी से उठता है उतना ही तेज़ी से डाउन चला जाता है शुरुवाती प्रेम में आप देखेंगे लड़के ज़्यादा उत्सु रहते हैं हर चीज में डिमांड वही करते हैं हर नया प्रस्ताव वही जेते हैं उनके हार्मोंस टेस्टोस्टोरों को बहुत परशान करता है पर वो तब तक है जब तक physical intimacy नहीं बनी है physical intimacy बनने के बाद या 2, 4, 10, 20 बार बनने के बाद बहुत तेजी से उनका graph नीचे आना शुरू होता है इसलिए महिलाओं को अक्सर शिकायत रहती है कि तो जैसे पहले थे वैसे अब नहीं है और वो बिचार जानवुस के ऐसा नहीं कर रहा है उसके नेचर वैसी है evolution में उसको बनाया ऐसा गया है females का जो love का phenomenon है वो समय के साथ mature होता है एक जटके में नहीं होता हूँ धीरे धीरे उस सिती में आती है चाहे वो physical love हो चाहे non physical love हो intimate होने में और intimacy के उस बिंदू पर पहुचने में जो मेल्स को नहीं लगता है और जब उस रहने लगते हैं धीरे धीर उनका प्रेम गहरा होने लगता है इस इस नोट अबाट अल दा विमन इन जनरल और उनके प्रेम में emotional element ज्यादा हो यह समभवने ज्यादा रहती है दूसरा मेल्स की सेक्सूल लाइफ की डूरेशन बहुत ज्यादा है चोदा पंधरा साल की उम्र से 55-60 आजकर तो शेर 55-70 की उम्र तक भी वह अक्टिव रह लेते हैं and they have the capacity of producing children even in the age of 50 55, 60, 65, 70 तो फीमेल्स को ये भी पता है कि हमारा एक्ट्रेक्टिव होना, मदर हो पाना बहुत दूर तक चलेगा नहीं तो सबकॉंशेस, उनकॉंशेस में, इवोलुशनली साइकॉलोजी में बत कही जाती है तो उनमें deviation का scope थोड़ा से कम इस unconscious element से भी होता है कि एक को चुने, वो बात तक हमें सुरक्षा दे तो जरूरी है कि एक ठीक से चुन लें, उसे साथ हम रहें तो दूसरा parameter के हुआ emotions, तीसरा उनकी जो biology है उसका अंतर भी उनको थोड़ा सा अरशान करता है इसलिए विमन में ये टेंडेंसी थोड़ी सी कम देखेगी कि वो multiple partners के साथ में हो social control भी इसमें एक fact है सनी की वो नहीं है social control कम भी हो तो भी अगर आप देखेंगे तो मेरे खाल से relatively males में टेंडेंसी अपको ज़्यादा नज़र आएगी क्योंकि अगर आप पूरा डिजाइन देखें बच्चा पैदा करने में उनकी होमिगा केवल कुछ मिनिट की है और मा की पूरी नौ महीने की है उन कुछ मिनिटों के बाद वो फिर भूखा है उसको फिर जरूरते हैं एक दिन दो दिन के बाद फिर उसके अंदर ये tendency भी है कि कुछ नयापन हो ये भी evolution से आ रहा है उसका evolutionary design के वले एक ही है कि उसको अपनी संतान पैदा करनी है सुरक्षित और संतान जहां से भी पैदा हो सकती है करनी है इसलिए जो जो सुन्दर स्वस्थ फीमिल सो उसको दिखेंगी उसके बने में अट्रेक्शन आएगा और अट्रेक्शन का इतना ही मतलब है कि उसका जेनिटिक मेक अप उसको परशान कर रहा है कि इस महिला के थूबी संतान पैदा कर लो ताकि तुम्हारे बेस्ट जीन सुरक्षित रहें इतना ही मतलब है इसका इस प्रकृति को न विवाह से मतलब है न तलाक से मतलब है प्रकृति को मतलब के वो एक चीज़ से है कि आप मरने से पहले अपना बच्चा पैदा कर दें सर्वाइवल बना रहे है क्योंकि महिला को नो महिने लगने है और उसके बाद दूद भी उसको पिलाना है पालना भी उसको है उसके लिए प्रैक्टिकल भी नहीं है कि बहुत सारे मेल जून ले male का काम कुछ मिनिट का ही है इसलिए वो बार बार अपने जीन्स छोड़ सकता है अपने जो स्पर्म सा छोड़ सकता है यहां भी वहां भी वहां भी ताकि उसके जनरेशन्स आगे बढ़ें continue हों इसलिए जब लोग evolutionary perspective से psychology को समझते हैं, sociology को समझते हैं मानना है कि मेल्स में मोनोगेमस या मोनी या कहा कहींगे मोनोअमरोज ना होना बहुत ही कॉमन बात है.
1:05:43Because of evolution. Evolution. तो पॉलीगेमी का मतलब है एक शाधी का सिस्टम. पॉलीअमरोज का मतलब है कि दो मेल, दो फीमेल एक साथ रहते हैं. दोनों को दोनों से प्यार है दोनों को दोनों से प्यार है वो ट्रांसपेरिंसी है धोखा नहीं दे रहे हैं ओपन है तो आज क्यों करते हैं लोग अब क्योंकि अब तो ये सारे factors हड़ गए अब genetically लोगों को कोई अपना offspring भी नहीं बनाना इस नोट आफर जोगे देना नहीं है इविल्यूशनरी राइट तो आज आज क्यों लोग मल्टिपल पार्टने साथ में भालो चीटिंग भी करते हैं क्यों चीटिंग करते हैं चीटिंग ग्राफ वर्ल्ड में भी वो भी बहुत हाई पर है वाई दियु तिंक टुड़े पीपल चीट? अब इसे दो बाते हैं एक तो अब तो बच्चे बहुत सारे नहीं चाहिए तो ऐसा कि रहते हैं इसका जवाब यह कि Congressman done you unconscious को बनने में finely सब कॉंशिएज औरन लगते है उसको change होने में भी tills साल लगेंगे तो हम आज की सितीओं को कितना भी समझें हमारर unconsion पहले के हिसाब से चल रहा है हुआशू उसको change होने में कई हजार साल लगेंगे इसलिए हजार साल तक या कई हजार साल तक कॉंट्राडिक्शन बना रहेगा कि आज कंडिशन सेंज हो गई पर हमारे दिमाग वैसे काम करता है एक तो यह है दूसरा आपने कहा कि लोग चीटिंग क्यों करते हैं चीटिंग इसलिए करते हैं कि जैसे हम unconscious में evolution से बने हैं और जैसे हमारे social structure से बने हैं उसके बीच में contradiction है social structure आप से कहता है कि आप monogamous रहे हैं यह mood यह है संसकार है, कानून भी यह है जिन्दे की बश्चानून भी यह है हलाएं कि कानून अब crime तो नहीं माना जाता है, पहले भी crime बहुत specific case में था, ऐसे crime ने माना जाता है, अगर दो consenting लोग हैं, adults हैं, तो कोई दिक्कत नहीं है भी, पर हमें भारत की बात कर रुकाई देशों में दिक्कत है, जैसे इरान में अगर कोई महिला ऐसा करेगी तो उसको पत्थरों से मारा जाएगा या आज भी नियम है पाकिस्तान में भी ऐसा नियम है तो contradiction ये है कि मेरे जीन्स मुझे बार बार परशान करते हैं कि नाएपन की खोश करो और मेरे social structures मुझे धंकी देते हैं कि अगर की तो छोड़ेंगे नहीं अब इस contradiction में तीन चीज़ें हो सकती है एक तो ये कि मैं समाज को शोड़ के भाग जाओ और evolutionary psychology के level पे जीओ पागल हो या कोई आदमें मान लेजिए सड़े पे घूमता रहते हैं आ रहा हो के लोग उस पर जहन्दे ना बंद करते हैं कुछ भी करता रहा है तो उसे समाज को छोड़ दिया और evolution के level पर जी रहा है बड़ उसकी meeting value भी तो कम हो जाएगी फिर या किसी और country में चला गया meeting value कम हो जाएगी लेकिन ऐसे लोग कुछ न कुछ तो मिली जाएंगे कि कम से कम उसको जरूरते पूरी हो जाएं, impossible नहीं दूसरा तरीका क्या है उसने अपने social structures को संभालने के लिए अपनी genetic, evolutionary और biological needs को पूरी तरह से suppress कर दिया जो बहुत रोग करते ही है और दुनिया को बोलते हैं कि हम तो truly monogamers हैं अंदर तो शगल चलता है, ये conflict चलता है ये उनके अंदर भी उस conflict में वो अपने natural aspect को मार देते हैं अपने societal aspect को ठीक रखने के लिए पधिकांच लोग ना ये कर पाते हैं ना वो कर पाते हैं तब एकी रास्ता है यह दो रास्ते हैं वो अपने spouse से बहुत transparent honest बातचित करें कि देखो भई मेरा genetic makeup उसे बड़ा परशान करता है social norm यह है कि हम लोग monogram अस रहे हैं मैं रहने पा रहा हूं तो मैं क्या करूं अब ऐसे वे mail यह चाहेगा कि उसके पत्नी ये कहेगा एच्छा तुम जो ठीक समझो कर लो मुझे दिक्कत नहीं पर चिंता ये भी अगर उसने ये कह जिए कि ठीक है तुम भी और मैं भी वो जहिल नहीं पाएगा क्योंकि दोनों में possessiveness भी ठीक ठाक है और वो भी उस insecurity से connected
1:10:01इतना ट्रांस्पिरिंट होने की पर्मिशन हमरे श्ट्रक्चर जैते भी नहीं आम तो रुपे ये बत कितने पती पती यह आप उसमें कर सकते हैं शायद ही खो 0.0001 % कोई होंगे तो होंगे अब एकी रास्ता बचा चीटिंग इसलिए चीटिंग का कोई data तो हमारे पास है नहीं पर मेरा ख्याल है कि cheating इतनी ज्यादा होती होगी जितनी हमारे data बताने पाएगा आप इस data की बात करें हम तो बहुत क्योंकि इन चीज़ों का graph survey कैसे हो सकता है socially low को sound भी correct भी तो sound करना है plus there are apps now only for cheating and then extra marital affairs मैंने उसे पर रिसर्च की थी एक app के बारे में पढ़ा था कि इंडिया में या शाद ग्लोबली काम करती है जो कि वल चीटिंग के लिए करती है एक्स्टामाटर टेलफेस के लिए एक्स्टामाटर के ग्लीडन शाद नाम उसका है ना और प्राइट सेंटर, उसका डाउनलोड डेटा भी बहुत है, इंडिया में, तो इस इंसेन, नहीं वह तो है और मैंने सुने कि शैद साउथ इंडिया के किसी शेहर में, शैद कोची का नम बीच में ऐसा है कि वहाँ सबसे आदा डाउनलोड्स हैं उस सेब के, इसाद आपके पर ये जो आपने बाते करें ये तो बहुत सुनने कि prefrontal cortex काम करेगा तो समझ मैं ये नहीं तो limbic system तो ये बोलता है कि भाई कैसी बाते कर रहे हो इन simple words कि emotionally जिस society मैं मैं पहला बड़ा हूँ आप पहले बड़े हूँ उसमें ये बाते भी wrong है कि आप सोच कैसे सकते है उस बारे में कि वैइन को किसी भी तरह से डिफाइन करके नार्मालाइस कैसे कर रहे हैं नार्मालाइस कर भी लेगी लगार कुछ बड़े नियता हुना यह बात कही है कि लड़के हैं गलती हो जाती है इसी ससइटी की बात है ना society का काम करने का अलग तरीका है क्या जो parents है या four parents है वो भी कभी इस उम्मर में थे ही mental monogamy तो भी नहीं कर पाए होंगे हो सकता है कि cheating जुनों ने भी कि हो पर cheating का तो सौंदर इसी में कि किसी को ना पता लगे उन दोनों के लावा किसी को ना पता हूँ तो लगभख सब लोगों को दोनों बातें पता है एक तो यह कि cheating हर generation के लोगों ने किसी ना किसी मात्रा में की है और यह भी कि एगली generation को सिखाना है कि मत करो cultural norms में मैं अकेले में deviate हो गया तो मैं पब्लिक लिड थोड़ं मैं कहां। कि नॉर्म गलत है। कभी -कभी ऐसा होता है कि सो लोग हैं समाज में सो के सो चिटिंग कर रहे हैं पर नॉर्म ही एक नहीं करनी है और जब -जब सोग गठे बैठ रहे हैं नाला लगा रहे हैं कि नहीं करनी है तो traditional societies में ऐसा होता है और इसलिए आप कहीं भी data पढ़ेंगे तो जो rape होते हैं उन rape में 95 % से उपर वही लोग करते हैं जो परिवार के हैं या परिवार में आते जाते हैं यह 98 के असपस चाहिए परसेंट 95 % more than 95 % of the rapes are committed by the people who are the family members or like family members
1:13:27असली रेप वो थोड़ना जिसमें बहुत छोर शराबा हुआ हंगामा हुआ पुलिस केस हुआ तो फैमिली के अंदर वो पता भी नहीं चला पेरेंट्स ने बोल दिया बच्ची को चुप रहा ना भई अजिकांच आप डेटा देखिए मैं जहातक याद करूं 98 % के आसपस्ट डेटा है ऐसा क्यों होता है कि ऐसा समाज जिसमें कुंठाएं हैं कहने के हिम्मत नहीं है नॉर्म्स फिक्स हैं नॉर्म्स चेंज नहीं हो पाती है लोग अंदर ही अंदर डैवियेट होते हैं चीटिंग करते हैं चेहरा ऐसा सबका होता है कि हम cheating नहीं कर रहे हैं लेकिन करते हैं और जिनको लगता है कि यह ज़्यादा बुरा है फिर वो divorce से लेते हैं ऐलग होते हैं पर 1955 से पहले तो divorce भी निले सकते हैं तब क्या करते होंगे यह क्या होता था उस समय कई लोग दो तिन शादियां करते थे हिंदू हों में भी करते थे क्योंकि एक ही शादिय करने ये भी 1955 में आया है हिंदू में रिजेक्ट उसके पहले नहीं थे उसी में डिवोर्स का आप्शन भी है और उसी में मोनोगयमिका एक कंपलस्टी लॉँ है
1:14:49और वाइड यू थिंक कि ऐसा होता है जब मेन इवन इन टोड़े सेसाइटी लड़का अगर कुछ ऐसा करता है और वो जाके चीटिंग करता है बहार पकड़ा जाता है तो तो बहुत ली फैंबली मेंबर्स ऐसे बोलते हैं लड़का है हो जाता है और लड़की को इतनी इसली वो यारे जो evolutionary psychology में इसके आंसर ज़ाए evolution और sociology की class है यह ठीग है आदमी के बारे में क्यों लोग ऐसा कहते हैं इसके पीछे एक concept है undisputed paternity का आपने एक आदमी के नाम सुनाओ कारल मार्क्स का कारल मार्क्स के एक दोस्त है फ्रेडरिक एंजल्स उन्होंने इस, मतलब एक concept बहुत पुरा है पर उन्होंने इस भी लिखा
1:15:48अगर आप देखें कि लोगों की family से basic need क्या है property लगभग 90 % से उपर आज भी males के हाथों में personal property छोड़ के मैं बोल रहा हूँ, जो private property परसनल के मतलब मेरा रूमा लो मेरा चश्मा मेरे का पड़े है ना ट्राइवेट पड़े लो मेरा घर संपत्ती बैंक बैलेंस वेड़ा क्योंकि मेल से बाहर काम करते हैं हमेशे प्रोपरटी जोनके नाम पे होती रही फिर लगववव सभी समाजों के सिस्ट Democrat में भी property बाप से बेटे को मिलती है हिंदू हुए यसा होता है चाहे मित्त अक्षर मानले, चाहे दायभाग मानले दो सिस्ट Потому समारे समाज में काम करते है संपत्ती बेटे को मिलती है 1905 में हिंदू सक्सेशन एक्ट आया तो उसके बाद से प्रोपरटी में बेटी का हिस्सा होने लगा पर वो कागजी ज्यादा है व्याभारी क्रूप से आज हो मिलता नहीं यह लगभागर समाजी में है सिर्फ हिंदू समाज के बाद नहीं जिंदगे फर आपने महने से प्रपरटी कमाई और आप चाहते हैं कि मरने से पहले पने बेटे को प्रपरटी देके मरू अब यहां एक पेच है यह गैरंटी कैसे है कि जिसको मैं अपने बेटा मान रहू हूं?
1:16:56मेरा ही बेटा है कैं गैरंटी इस बात की? undisputed paternity میں कैसे establish करूँ आज तो हो सकता है DNA fingerprinting से लेकिन आज से 50 साल पहले पूरी human history में कैसे हो सकता था इसका एक ही तरीका था कि एक औरत ऐसी हो जिसका physical relation केवल इस आदमे से हो और इसको इतना exposure ही ना हो कि किसी और के साथ relationship में जा सके आदमी चार जगा चला गया तो इसकी प्रोपरिटी पर खत्रा नहीं आ रहा औरत कहीं चली गई कहीं और प्रेग्नेंट हो गई तो जिस जिन्दगी भर की मेहनत किसी और के बच्चे को देखे जाएगा इसलिए प्रोपरिटी अगली पीड़ी को सेफ तरीके से मिलती रहे जरूरी था कि महिलाओं की जो फिजिकल इंटिमेसी सरकल है वो इतना कंट्रोल हो कि उसमें इंट्रूजन हुई न सके अगर दा मार्क्सिस सोशलिस तिंकर्स लाइक फेडरिक एंजल दिस इस जा बेसिक रिजिन भी हैंड Mono Game अभी जैसे आप उत्राखन जाएंगे तो वहाँ देहरदून के पास जगाए खस जो उन सरबावर परग्राम बोलते हैं देहरदून के पास खस ट्राइब रहती है हिमाचल में जाए यह हट्टी ट्राइब भी एक New Susan पर आई थी वहागी बहुत पॉपलर
1:18:41केवल उम समाजों में जहां प्रोपरटी बहुत कम है तीन भाई हैं तीन शादिये करेंगे बढ़ जाएगी प्रोपरटी प्रोपरटी माट में सकते हैं तीनों भाई की एक पत्नी है अब जितने बच्चे होंगे सब के अगली पीड़ी में सब भाई एगी पतनी आएगी, profiaces बैसी रहेगी बहुफ़ेगी नहीं प्रोपर्टी के सिस्टमस ने marriage के सिस्टमस को फिक ठक डिफाइन किया है और ये undisputed pater morality एक ऐसी problem रही है human history में और इसलिए हमारी culture क्या बन गई कि लड़का कहीं चला गया तो उतना खत्रा नहीं है पर उसी पेरामेटर से लड़की जाती है तो उस पूरे सिस्टम को चैलेंज हो जाएगा जिस पे हमारी प्रोपरिटी के ट्रांसफर्श रेके होगा है और इसलिए आप देखेंगे घर में बेटियों पर जतने बंधन लगते हैं नहीं तिक था कि उतने बेटाओं पर नहीं लगते हैं बारवे क्लास के बाद बेटा बाहर पढ़ने चला जाए इस जतना आसान है वो बेटी के ममले में नहीं दिमाग भी वही है ना Evolution के cycle के वो जो subconscious, unconscious elements बैठ गया है दिमाग के अंदर.
1:19:51वो ऐसे ही काम करते हैं. Justification different है. कोई कहेगा खोड़ना. उनको भी समझ में नहीं रहा है कि हम ऐसा क्यूं कर रहे हैं. उनके दिमाग में, unconscious में ये बैठा है. उनको भी नहीं पता. unconscious का तो मतलब यह जो पता ही नहीं किया बैठा हुए है पर बैठा तो है negative वाली बात तो कर ली ठीक है बट आज भी लोग शादी करते हैं देखिए शादी का पूरा package है वो एक package है अगर वो package पूरा cost benefit बेड़े जादा दे रहे तो लोग कर रहे हैं क्योंकि सेक्शूल नीड्स नहीं है ना कमपैनियन शेट है ने शादी के 4-5 नीट मने जाती है शादी में 4-5 बाते मने जाती है सबसे पहले सेक्शूल नीड्स और सेटिस्वाई करना आज कर लोग ये बात कम इसलिए कहते हैं उनके पास और बहुत सारे आप्शन्स होते हैं इसलिए उसको उतना फोकस नहीं करते हैं लेकिन आज से सो साल पहले, पिसा साल पहले इसलिए वो केंदे में रहता था आज क्या है दूसरा होता था पेरेंट हुड कि मुझे भई बच्चे का बाप बनना है तो कोई चाहिए मुझे, सास में उसकी मज़र भी चाहिए तो पेरेंट हो गया तीसरा कि मैं पेरेंट हूँ तो ये भी तो चाहिए कि बच्चे का इनिशिल सोचलाजेशन करना है कॉलेज 18 साल की उम्र से पहले वाले उसकी पूरी परवर हिष्टा की वर अच्छा इंसान बन जैसा मैं चाहता हूँ तो शादी चाहिए उसके लिए भी एक व्यक्ति चाहिए जो रात दिन उस बच्चे के ध्यान रखे और उसको अच्छा इंसान बनाए कौन करेगा?
1:21:13spouse करेगा अब मैं milk angle से बात कहा रहा हूँ भी ना चोथा जब बच्चे बड़े हो जाएंगे मैं काम करने लाइक ने रहूंगा मैं बुड़ा हो जाऊंगा मुझसे कौन बात करेगा कोई तो चाहिए तो मेरे दुख सुख share करने के लिए अभी से लेकर ही और especially in the age when I will not be physically very fit. कोई तो हो साथ में. Emotions share करने के लिए, heart to heart बात करने के लिए, companionship के लिए कोई तो हो. वो कौन होगा? वही एक व्यक्ति जोसने आपके साथ 25 से सल गुजारे हैं, रोट साथ रहा है, तो अब companion यह तीन चार फेक्टर्स काम करते हैं एक पांचवा होता है कि फिनेंशिल स्टेबिलिटी अगर दोनों काम कर रहे हैं तो दोनों मिलके घर बर बना लेंगे एक काम कर रहे हैं दूसरा उस पर डिपेंडनेंट रहेगा और कभी कल को क्राइसिस हो जाए मैं ना काम कर पहूंँ तो कम सक कम कोई संभाल ले फैंबली को एक थोड़ा सा एस्षूरिंस रहता है जो जो जोट फैंबली के पेशे भी बड़ा कारण है कि अगर एक भाई काम जो LGBTQA है ना, कुछ लोग हैं जो सक्सूल हैं ने, उनकी नीट से नहीं है, उनकी इच्छा ही नहीं होते हैं, इससे भी उस तरह की इंटिमेसी करने की, उनके पास पहला कारणा नहीं है, जिनको पता है कि वह polyamorous हैं, वो किसी एक ऐसाटी के नहीं सकते हैं, जिन्दगे और जूड़ कोला पड़ उन्हाँ पूलना चोड़ो नहीं करते है पहले रिजन नहीं है जिसको बाप या माँ बनना ही नहीं है एकदम क्लियर है कर नहीं है उसके बाएजिव कर दोस्ति करकर नहीं है जिसको लगता है कि मैं एक व्यक्त रिख से दोस्ती करकर नह करती है कि मैं तो बोरी हो जाओंगो दस दिन में, चालिस साथ को उन साथ में रहेगा, जो बहुत ज्यादा एक्ट्रोवर्ट हैं, दिन पर बाहर घुमते हैं, जिनको घर में आने का मने नहीं करता है, वो क्यों बंदना चाहेंगे, कि कोई बार बार फोन करकर बोलेगी कब आओगे कब आओगे घर में रहते हैं कभी तो जो आयाद ख्याल लोग हैं जिनको पॉलोटिक्स में जाना है कोई बड़ा सोशल काम करना है स्टार्ट अप करना है साइंस पे रिसर्च करनी है और उनको रिसर्च में इतना मज़ा आता है कि वही उनकी पहली मुहबत है spiritual life जीने का मन करता है जिनको family की चिक -चिक नहीं चाहिए जिनको बच्चे पालने के एकदम मन नहीं करता है फेरिन बनने के एकदम मन नहीं करता है उन सबका धीरे -धीरे रुजहनी होगा शाधी ना कर रहे हैं कुछ इसलिए कर रहे हैं कि वो family man type के लोग हैं उनका मन करता है यह तो इतना सोचते ही नहीं यह सोचते हैं यह family के pressure में जुग जाते हैं क्योंकि आपके मन में आ रहे हैं कि शादी क्यों करूं?
1:24:14पेरिंट्स को आपस पे दबाव है. फूफा मौसा सब कह रहे हैं फादर को कि भाई बच्छा बड़ा हो गया, शादी कर दो हाथ से निकल जाएगा. वो आपे दबाव बना रहे हैं. किसी emotional moment पे उन्होंने कहा कि बेटा, heart attack आगया है बस तुम्हें तुम्हारी पत्नी साथ देख के मरना चाहता हूँ आप डैसे में क्या करेंगे तो बहुत सारे बच्चे अपने parents के खुशी के लिए अपनी जिन्दगी तबाह करते हैं और ये generational तरीके चलता है तो बहुत सारी शादियां ऐसी भी है जहां बच्चे नहीं चाहते हैं शादी करना मैं लोग उस इंडिविजुवल के साथ नहीं उचाहते ही नहीं सिर्फ इसलिए कि भाई अब पेरेंट्स ने ऐसी बात बोल दिए ऐसा एमोशनली ब्लैक मेल गिए कि अब क्या करें?
1:24:57आप नहीं करी शादी? नहीं में तो सामाने सब्जेक्टी हूँ. ठीक लगा तो कर ली. फैमिली मैन. ऐसा कोई सूपर फैमिली मैन भी मैं नहीं नहीं रहें ठीक है. फैमिली वाला भी रहता है और मैं एक्ष्ट वर्ड भी कुछ मामनों में रहता हूँ आपने एक बात बोली कि अगर आपको कुछ बहुती बड़ा काम करना है तो फिर अब सोचते हो कि नहीं करो शादी दो यू फिल कि अगर आप बहुत अमबिशिस और आपको बहुत ही कुछ life में बढ़ा करना है तो then family structure आपको slow down करते हैं इसके भी दो जवाब है जैसे अगर नरेंद्र मोदी या योगिया जित्तिनाथ ने शाज़े की होती ये ममता बेंदर जिन शाज़े की होती वाजपीजी ने शाज़े की होती एपी जब्दुलकलाम ने शाज़े किया होती है तो बेरे ख्याल से वो उतना अचीव नहीं कर पाते हैं जितना उनकी आ है क्योंकि शाज़े करने के बाद आपके जिम्मेदारियां बढ़ जाती है एक पूरी परिवार की जिम्मेदारिया बच्चे भी होंगे उनके जिम्मधारियां भी होंगे कमसे कि मैं आप 24 हंटे नहीं दे पाएंगे अपने उस मिशन में जो आपने सोचा हुगा दन में इसलिए जनल जली ऐसा माना जाता है कि अगर आप किसी एक मिशन के साथ है वो मिशन किसी को अच्छा लगे बुरा लगे पर आपके मनमें मिशन है तो बेहतर है कि अकेले रास्ते पर चलना चाहिए ठीक नमबर टू स्टार्ट अप करना है, एलन मस्क बनना है, तो भी शादी ना करो तो कोई दिक्कत नहीं है, 24 हिंटे काम करो कोई दिक्कत नहीं कर लिजी परियाद संभव हुआ है यह स्टार्ट अप कल्चर जो है जिसमें कॉर्पोरेट कैपिटलिजम है कि आपने कहीं से पूंजी उठाई थोड़े शेर्स दिये, काम किया, फिर वैल्लिवेशन करवाई, शेर्स और बेचे, आई प्यों लेके आगे, शेर्स निकाले, सारप ऐसे पीडियों को में लेगा इसलिए आप देखेंगे कि स्टार्ट अप कल्चर से पहले बिजनस उन्हीं फैमिली में ज्यादा चला जहां फैमिली सिस्टम बहुत रिजिड है और फैमिली सिस्टम रिजिड ना हो तो इंटर जनरेशनल बिजनस नहीं चल सकता कहां बिजनस से लेगा तीम भाई हैं और तीनों में से एक प्रोडक्शन देखता है एक मार्केटिंग देखता है एक सेल्स देखता है जोंट फैमिली है पेरेंट से अलोग होने का ख़़ाब भी किसी को नही है तीनों की शादी बहुत सोच समझ के ऐसी महिलाओं से की जाएगी जो ऐसे ही परिवार से हैं निगे जिनको पता है बिजनस रही से चलता है जो प्रोपरटी मांगने के लिए चूँ भी नहीं करेंगे कभी जिंदेगी बार
1:27:52जो अपने पत्चे के किसी बात कभी इनकी शादीया भी ये कितने भी स्मार्ड हो जाएं, कितने बॉंमे में में रहने हैं, जब शादी होगी तो इनकी फैमिलि इनको मजबूर कर देगी कि शादी अपने ही कल्चर की लड़की से करनी है उसी लड़की से करनी है जो ज़ाण फैमिलिय को सभाल सकती है जब तक ये चलते रहेंगे ऐसे structure business का चलता रहेगा ठी जहां love marriages और वो सब होना शुरू हुआ intercast, interreligious, पढ़े लिखे spouses बनने शुरू हुआ जो अपना हक माँगेंगे, जो कानून की बात करेंगे, बिखर जाएगा तो traditional businesses के चलने के लिए एक खास rigid family structure बहुत जरूरी है start-up के दुनिया में corporate capitalism के दुनिया में जहां share holdings आप बेच सकते खरी सकते हैं वहां relatively family structure easy भी हो individual भी आप हैं single भी हैं तो वह एक काम चल जा गया पहले नहीं चल सकता था इसलिए टाटा हों, बिर्ला हों, जो भी हों, जो बड़े families हैं, आप उनके family structure को study कर लिए, पारसी लोग भारत में इतना आगे निकले, यहुदी लोग इतना आगे निकले बिजनसेज में, पारसी लोगों में inter -religious marriage लगबग नाममकिन है, स्मिती एरानी, स्मिती मलोत्रा से स पार्सी फैमिली में कही हैं कि बहुत अपवाद है बहुत बड़ा पर्शिन फैमिलीज में भारत में और जो यहूदी फैमिलीज हैं almost impossible हैं क्योंकि उनको पता है कि जो structures बनाए हैं वो सब भी खर जाएंगे बड़की तो जा सकती हैं लड़का नहीं कर सकती हैं करते हैं वहाँ भी लेकिन relatively थोड़ा आसान है कि लड़की बाहर से आजाए अवोइड वहाँ भी करते हैं क्योंकि cultural differences कई बाहर उनको परशान करते हैं क्योंकि हम start-up की बात कर रहे हैं corporate capitalism की बात कर रहे हैं have you seen any pattern की जो इस world में top पे पहुँचा है उन सब की रिलेशनशिप लगबख खराब ही है यह वह सिंगल ही है मतलब आप जो तीन -चार एक्जामपल सोचके कह रहे हैं अधिकतर एक्जामपल से जो फिर्स जीरो से टॉप पे पहुँचे एक ही जिनरेशन में फ्रॉम politics like from our prime minister to someone like let's say Elon Musk to Steve Jobs to relationship खराब है जैसे हमारे हैं politics में परंपरा है कि अगर आपको politics में जाना है तो आप विवार ना करें या सास ना रहें शुरू से ही इसको मैं relation खराब हो नहीं कहूंगा उनको clarity है कि मैं दो नव में पैर ने रख पाऊंगा नहीं तो परे बार समा लोगा या अपनी रिस्पॉंस तो मुशे अपनी देश की पार्टी की या ग्यान भी ग्यान की जिम्मेदारी समखलने तो मैं यहां हूँगा ही नहीं इसको रिष्टा खराब होना नहीं कहेंगे रिष्टा खराब होने के सेंस में आप जो एग्जाम्पल्स शैद आपके दिमाग में आ रहे हैं मसका हो सकता है आप Bill Gates की बात कर सकते हैं Steve Jobs आप Steve Jobs की बात कर सकते हैं आप Jeff Bezos की बात कर सकते हैं ये है इन फाउंडर तो फेस्बुक का भी है माँ तो ऐसा नहीं देखा हमने उसकी ब्यूटिफल रिलेशन्च चुछ तो ये जरूरी तो नहीं है कि रिष्टा खराब करके या बहुत बड़े उद्ध्या में बनेंगे जरूरी तो नहीं है मेरे ख्याल से क्या होता इसमें मानली तो दो लोग रिष्टे में है रिष्टा उंकगा ठीक है बहुत अच्छा नहीं ग्रेट नहीं है अगर रिष्टा ग्रेट नहीं है सामान नहीं है और जिन्दगी भी सामान नहीं है तो चलता रहेगा अगर अचानक
1:31:38पाएगा. माले जी पते के बस बहुत पैसा आ गया. और वो खर मों रुपया आ गया. और वो अपने घर में फील कर रहा है कि रिष्टा बहुत अच्छा नहीं चल रहा. अब उसका मन करेगा जब सारी दुनिया मेरे कदमों में सब चीज़े ठीक हैं तो मैं क्यों नहीं रहो सकता कीमत चुका दूँगा तलाग के लिए मैं इतना पैसा दे दूँगा कि भाई तुम भी दुनिया की सबसे अमीर औरत बन गई करो खर जहां करना है ना तुम मेरे साथ खुश हो ना मैं तुमारे साथ खुश हो क्यों बंद के रहना है किवल सोशल प्रेशर में कहते हैं कि बहुत बड़ी सफलताओं के बाद और सफलता मिलने से पहले रिशे तूटते हैं बीच के लेवल पर रिश्टे बने रहते हैं क्यों? बीच के लेवल पर आप एफोर्ड नहीं कर पाते हैं अब को लगता है कि पहले ही बहुत चैलेंजिस चल रहे हैं एक चैलेंजर पाल लूँगा बेना बात के तो लोग मैनेज़ कर लेते हैं, काम चला लेते हैं इसलिए अगर किसी की लाइफ टाइम में सक्सेस बहुत ज्यादा आजाए तो संभावना बनती है कि उसके बहुत से रिष्टे खराब होंगे दोस्तों से भी होंगे फूफा मामात आउ चाथा सबसे होंगे क्योंकि सब में अकेला एक अदमी सफ़र हो गया सबकी अप एक शाय बहुत ज्यादा है किस किस को बिचारा उसंभा लेगा तो रिष्टे खराब होते हैं अब एक family में सारे अमीरी हैं सब के startup बढ़िया चल रहे हैं एक का और चल गया है कोई दिख्या तेरी कोई pressure ही नहीं है पूरी family में कोई दिख्या नहीं किसी को कोई demand नहीं करेगा सब पहली उस status में है तो आप अच्छानक बहुत सफल हो जाएंगे तो इस बाद का खत्रा बढ़ता है कि आपका रिष्टे बेढ़ेंगे Do you feel loneliness बहुत बढ़ रही ना पूरे वर्ल्ड में तो do you think as individuality जैसे growth यह individual ambition और पैसा growth आए loneliness बढ़ती जाएगी loneliness बढ़ने के बहुत सारे factors में से एक factor यह है और ऐसा कहते हैं कि loneliness और meaninglessness यह दो next pandemics है epidemics पहले जो बेशक loneliness epidemic तो आज ही बोलते हैं कि रहना start हो गया है बड़े शहरों में आज भी है loneliness के बहुत सारे factors है male loneliness जदा बड़ी epidemic मानी जाती है क्यों?
1:33:51मेल्स अक्स्प्रेसिव नहीं होते ज़्यदा क्योंकि अक्स्प्रेसिव नहीं है तो धीरी -धीरी सरकल उनका सिमठता जाता है सकूल कॉलिज के दोस्त उनके आकरी दोस्त होते है वर्क -प्लेस में कुछ लोग दोस्त जैसे बंते हैं और उतने गहरे दोस्त क्लिक कॉम्पेटिशन जदा रहता है वाग कम होते हैं महिलाओं की अच्छी बात है कि वह बहुत एक्स्प्रेसिव है अपनी एमोशन्स को लेकि वह अपॉलोजेटिक नहीं रहती है एमोशन है तो है आसु आता है तो आता है इसमें क्या दिक्कत है ना ही समाज उनको कहता है कि तो मैं अपालोजी करनी चाहिए इसके लिए समाज अच्छा फिल करता है कि महिलर होती है तो कितनी एमोशन है तो कितनी अच्छी है आदमी रोय तो लोग बुरा मान जाते है ये इसमें ना एक बड़ी इसे स्टेडी है अगर आप पढ़ना चाहें तो एक नैंसी कोड़ो नाम की महिला थी सिग्मन फ्रोइड की परंपरा में थी सिग्मन फ्रोइड साइकालोजी का सबसे विवदास्पद आदमी है गहरा विवदास्पद ज्यादा है उसने ये वैंदेर भी हएं कोशिश की कि महिलाइं पुरुष्उ से कमतर हैं कम है और कैस्टेशन में सिरा कमप्लेक्स नावी कम जैसे उसने इडिपेस कमप्लेक्स की बात की ऐलेक्ट्रा कमप्लेक्स की बात की बेटी का पहला प्यार उसका बाप है, इसको इलेक्टरा कॉंप्ल्क्स कहते हैं, बेटे का पहला प्यार उसकी माँ है, इसको एडिपस कॉंप्लेक्स कहते हैं, हर महिला अपने अंदर inferiority feel करती है, इसको castration complex कहते तो उसका मारना था कि, उसके भाशाने तो उसका मानना था कि क्योंकि महिलाओं का जो जनाइटल पार्ट है वो इंट्रोवर्ट है मेल्स का एक्स्ट्रोवर्टिव है तो बच्चियों को बच्पन से ये फील होने लगता है कि उनके अंदर कोई कमी है और इसी कॉम्पलेक्स का नाम कैस्टेशन दिय तो महिलाई inferiority से भरी हुई है उनको शुरू से ऐसा लगता है अजीब सी बात थी पर उसने बात कही उसी की परंपरा में आगे चलके एक महिला आई Nancy Kodoro और उसने अपने ही गुरू गुरू मनलब सीधे गुरू नहीं थे उस tradition में उनको खारिज करके एक concept दिया और उस thesis का नाम है The Male Inexpressiveness यह नाम है उसका The Male Inexpressiveness तो उन्होंने बताया कि males क्यों inexpressive हैं उसकी और भी वेक्षे हैं पर इनकी वेक्षे हैं बड़ी interesting माने याद नहीं है क्या कि जब बच्चा पैदा होता है फ्रोइट क्या कहा रहा था कि बेटे को मा से प्रेम है बेटी को बाप से प्रेम है और यह सब जनले ब देखेंगे कि लड़के लोग आम तोर पर नहीं मा को ज़्यादा प्रेफर करते हैं especially बड़े होने के बाद बेटी हों के लिए पापा की परिवाला जो चलता रहे तो महसाख वो रहता है नैंसी कोड़ोर ने कहा कि नहीं बेटी हो या बेटा हो दोनों का पहला प्यार मा है क्योंकि उनकी सारी जरूरते मा ही पूरी कर रही है चोटे बच्ची क्या जरूरत है खाना मिल जायर ये कि दूध मिल जाय और जब वो गीला हो तो कोई पोँच से उसको levar घून अब 7-8 साल की उम्र में, 6 साल की उम्र में जरूरी हो जाता है कि बेटे को मा अपने से दूर करना लगती है यह बहुत इंट्रेस्टिंग है, बाइलोजिकली बेटे के अंदर सेक्सवल ड्राइव बहुत कम उम्र से शुरू हो जाती है उसे समझ नहीं आ रहा है, उसे कुछ नहीं पता है क्या है लेकिन अगर आप उसको फिजिकल लेवल पर देखेंगे तो यह साफ -साफ देखता है कि बहुत कम उम्रसे ही सेक्सुल ड्राइफ उसके इंदर मैनिफेस्ट होती है यह मा को भी दिख रहा है बाप को भी दिख रहा है तो उनको एस सेंस होती है कि लड़का बड़ा हो तो उसको मां से थोड़ा सा डिस्टेंस पर करें ताकि वो बहुत गलती से भी उसके मन में ऐसी एमोशन्स नहाने लगें क्योंकि बच्चा छोटा उसको नहीं समझे भी है तो दुनिया की हर कल्चर में छे, साथ, आठ, नो साल की उमर में बेटे को मासे अलग करते हैं अलग सुलाते हैं बेटी के मामने वैसा नहीं होता है बेटी साथ नहीं सो सकती है नेंसी को डूरो ने कहा है कि जब बेटा मासे बहुत प्यार करता है और उसको यह सब नहीं पता है कि उसको पेरिंट्स क्या फील कर रहे हैं, उसको क्या पता बिचारे को और पेरिंट्स को लग रहे है कि यह socially ठीक नहीं है कि बेटा मा के साथ सोय तो उसको अलक सुलाते हूं वो विदरोख करता है जब विद्गरोफ करता है तो मा बड़ी दोग एमोशनल होती है तो फिर बाप बीच में आता है समझाने से ना माने तो फिर बाप आके हिंसा करता है मार्क पटाई करता है धमकाता है उसको इस प्रोसेस में लड़का अपने अंदर नफरत पालेता है especially बाप से और मां से भी और ओ धीरे धीरे उस नफरत में फील करता है कि मुझे इस दुनिया का पार्ट बनना ही नहीं है और वहां से उसको लगता है कि मुझे बाहर की दुनिया में खुद को सावित करना है इसी लड़कों के पैर घर के अंदर ने पढ़ते हैं आम तरुकर आवारे गर्दी मुझाद उनको मदा आता है हमेशा बार गूनते रहे हैं उनको घर के अंदर के दुनिया बेचेन करते हैं और वहीं से वो इनेक्स्प्रेसिव हो जाते हैं कि इनके सामने अपना emotion express नहीं करना है इवर करके देख लिया यह नहीं समझते हैं तो अपने emotions को digest करना, पी जाना, वो करना शुरू करता है और बाहर के दुनिया में emotions हाई नहीं उसके बहाँ तो वो जीतने गया है और बहुत कुछ हासिल करके power हासिल कर लूँगा property हासिल कर लूँगा सम्मान हासिल कर लूँगा और unconsciously वो दिखा देना चाहता है अपने parents को कि देखो में क्या हूं ये Nancy Kodoro की वैक्षा है कोई भी एक वैक्षा finally ही होती है बहुत सारी वैक्षा है होती है पर हाँ male inexpressiveness की एक व्यक्षा ये है दूसरा evolutionary व्यक्षा देखें तो वो विचारा हमेशा से testosterone उने के भूम रहा था वो तो testosterone उनके क्या result से होते है मुझ जाड़ी आती है, गुस्टा आता है aggression आता है, sexual drive होती है उसको इसके बियुण जाल समझ में नहीं आता है दिमाग तेज़ चलता है क्योंकि शिकार करना है तो दिमाग बहुत अप्लाई करना है वरना शिकार हो जाओंगा तो बहुत तेज़ दिमाग चलाना है तो उसका prefrontal cortex बहुत developed है sexual rise की वैसे testosterone developed है उसी testosterone से उसको गुसा बहुत ज़ाज आता है आक्रामकता है उसके अंदर ये उसकी बेसिक परस्टनेरिटी है इवलिशन में उसमें वो emotions है ही नहीं होतने करुना, दया, मंता ये सब emotions है यूँ नहीं बादसल ले वो है नहीं होतना emotion आइडिया ही नहीं ये तो हमें Jesus Christ इधर बुद्ध, इधर महावीर, इधर उपने शद, इनके बाद ये बाते होने शुरू ही है, और ये सारी बाते कितना साल की है, ले दे के पिसलिए पांसजार साल की है, होमो सेपिन्स तीन लाग साल से है, और सारा एवलुशन मेले, मिलाकर देखे 350 करोड साल का है 350 करोड साल के हिस्ट्री में 5000 साल के हिस्ट्री कितना चेंज करेगी हमारे भी हेर को तो इसलिए अगर अगर मेल्स इनेश्प्रेसिव हैं तो ये बहुत लंबी evolutionary परंपरा का एक पार्ट है बड़ी evolution point of view से वाए अगर आप सिर्फ एनिकडोटल इंसिदेंस भी देखो सोसाइटी के पॉइंट अफिव से
1:41:32उसमें मैंन को कही ना कही एक एमोशन का टैक्स देना पड़ता है हाँ अगर वो रोएंगे तो लो बुरा माने है यह इसलिए ऐसा लग रहा है आपको क्योंकि इस साइड को आपने बहुत देखा सुना होगा ये दिक्कत महिलाओं के साथ ज्यादा है अगर वो किसी से हलका सा मुस्कुरा के बात कर ले तो लोग जज़ कर लेते कि या तो चाहती है मुझे या ठीक नहीं है, गरेक्टर ठीक पिर भी नहीं है आदमे कितने मुस्कुरा के बात कर ले कोई जज नी करता है करते हैं अब करते हैं मुस्कुराने भी जजज कर लेती है अगर आप बहुत ज़्यादा खसी मजाक करके बात करते हो तो लोग जजज करते हैं आपको पता नहीं मैं मेरे खियाल से तो मौर खीया अगर ऐसा कर रहे हैं तो क्योंकि लड़कों के किसी लड़की से हसके बात करने में अतना judgment हमने ने देखा जितना किसी लड़की के हसके बात करने में तरणत होता है तो मेरे खियाल है कि judgmental समाज का शिकार होना ये पुरिशों से ज़्यादा महिलाओं को जहिलना पड़ता है यह अगरी कि उन्हें ज़्यादा प्राब्लम्स फेस करनी पड़ती है बेट एक्सप्रेसिव होने पे उनको नहीं अग्सप्रेसिव होने नहीं नहीं वो तो उनका लड़कों एक्स्प्रेसिव होने पर पनिश्मेंट मिलती है लड़की अगर ना रोई तो पेरिंट्स तनाव में रहते है इस्पेशली डोली के समय विदाई के समय कई घरों में ऐसा हो तो लड़की का रोने का मन नहीं कर उसको मजा रहा है जिससे प्यार करते हैं उससे शादी हो रही है उसका बन कर रहा है अचा घर से बोर भी हो चुके जा देगा मन कर रहा है उसका पर वहां उसको रोना जरूर है तो बेशक ग्लिसरिन लगाएं कुछ करें लेकिन बहुत जरूर ये वीडियो में आना चाहिए कि बेटी दो रहे � अच्छा कभी के भी क्या तो लड़का रोने लग जाता है दूला कि वाइफ आ रही है वो नहीं रो रही है दूला रो रहा है विचार लो उसको लग रहा है कि इसे घर शुड़वा दिया फिर उसका वीडियो बनता है देख वो कितना प्यारा दूला लेकि लड़का रोई तो Sal ton parents को परीशानी है करकि ना रोई तो परीशानी है क्योंकि वो ताइप में ज़िए एन्हाय को ते यह चली रहा है social norm यहाई मजाख नहीं कर सकता φयाजा, एक लिमिट से जज़ाख नहीं कर सकता ऑ हैं, तो मैं उटसे नहीं कर सकता हैं, तो मैं अख्लाक बोलता हैं कि I can be friendly with YOU, but not the friend, you can be friend with me, आपके मन में जो अगड़ान में आपके मुझे बोल दो, मैं बिन अरजिमन ज़ो सुन लूँगा, सलाह भी जाज़ूंगा पर मैं तो नहीं कर सकता हूँ मेरे जो स्कूल कॉलेज के दोस्ते लग भग वो सब अलग लग ज़गा व्यस्त हैं और बहुत फ्री कम्मुनिकेशन अब नहीं रहा क्योंकि डिफरेंसेज ठीक ठाकाई जाते हैं तीचर पास अच्छे दोस्ताज भी हैं परिवार में भी क्या होता है कि अब टीचर हों एक संग्ठन के मुखिया हो तो घर के अंदर का महौल भी थोड़ा थोड़ा वैसा होने लग जाता है तो ये बात सही है कि लोनलिनेस मेरे जासे लोगों की तो नहीं एती है डस्ट जे नहीं है जहलना पड़ता है और मैं जहां जाता हूँ मुझसे पहले मेरे इमेज पहुंचती है अब इमेज टीचर वाली होती है तो क्या होता है लोग भी उसे तरीके से बात करते हैं तो बहुत comfortably कोई बात नहीं करता है एक आपचारिक था, एक formality रहती है, खुल के कहीं बात नहीं कर पाएगा तो फिर lonely हो गएए बड़ी अधिकतर man के साथ नहीं होता अलग -अलग quantity में मैं जितना मेरे साथ उतना शहद नहीं होता होगा पर एक level के बात तो हो नहीं है क्योंकि आप expressive हो नहीं सकते ज्यादा आप रोयो कभी हाँ हाँ लेकि लास्ट तैम यू क्राइड जो मुशे ध्यान आ रहा है पिशले 20-25 साल में शाहिए मैं एक ही बार रोया हूँ जब मेरी मा के मृत्य हुई थी जिस दिन मृत्य हुई थी उस दिन से लेकर उसके कुछ दिनों तक कई बार ऐसा हुआ क्या थाट था एक्सेक्ट इमार में क्या है मुझे लगता था कि मुझे बहुत फर्क नहीं पड़ा या क्योंकि जनरली मैं बहुत डिटेच्ट रहता हूं और मैं कुछ भी जहेलने की ताकत रखता हूं
1:46:19पाए आखरी बर जब उनका उपरेशन हुआ हार्ट का उपरेशन हुआ था लंग्स और हार्ट पे दो उपरेशन एक साथ हुए थे डॉक्टर बहुत अच्छे थे और उमीर थे कि वो सेफ हूँगी बारणाम अमर को उनके मृत्य हुए थी ये दोजाटारा की बात है साथ सा पहले की, 9 November को सरजरी रीव थी, तो 9 और 10 को हम बहुत होफुल थे, कि सब ठीक है, बस वो ठीक हो जाएंगे, और उसके बाद कहीं को लिक्कत नहींगे, 10 की रात और 11 को तब बिगडने शुरू हुए, और 12 को उनके डेथ हो गई, और वो operation theater में जाने से पहले एक तम खुश बहुत confidence एक novel पढ़ रही थी पढ़ते पढ़ते बंद करके कही थी कि यह novel पूरा हो गया अगला novel मुझे दे जाना इसके बाद जो पढ़ना है गुनाहों का देवता अखली novel पढ़ रही थी उस समय और जब वो जारदी थीटर के अंदर मेरी बाद भी नॉवल के बारे में मैंन क्या हुआ उसमें चंदर सुधा क्या हुआ तो पूरी कहाने सुना के फिर वो अच्छे से गए एक दम खुश वो 100 % confident थी कि बस मैं ठीक हो किया जाओंगी पर उन्हें यह successful operation तो जब वो चली गई तो जो एम्टिनेस फील हुई फिर रोना भी आया तीन -चार दिन बाद हमारी परंपरा में एक चोथा होता है शद्धाने लिशभा होती है करीब हजार लोग उसमें एते तो मेरे पिदाज ने कहा है कि मैं ही उसमें मंच संभालूं और उसमें कई लोगों के इंवाइट करना होता है बोलने के लिए तो मैंने ठीक है जब मैं माँ बैठा अब दिखका थे कि मैं बोले नहीं पा रहा हूं जैसी बोलने लगता हूं रोना छूड़ जाता है तीन चार पांस मिनट तक मैं बोल ही नहीं पाया और हजार लुक साम में बैठे हूँ, मेरी सारी स्टगल थी कि मैं एक शब बोल तो पाऊं, बोल नहीं पा रहा था, फिर वो किसी तरह से मैंनेज करके बोला, तब भी दिक्कत रही, आज एक पुने घंटे के बत कम से कम बोलने के लाइक हुआ, डेट दू घंटे का प्रोग् करता तो उसे अभी भी कुछ -कुछ वैसा फील हो जाता है अधर वाइस पिछले 25 साल में मुझे ध्यान ने कि मैं एक बार भी रोया हूँ आप जैसे बहुत सोचते हो तो इस बारे में सोचा कि किस वज़े से रोना आ रहा था Is it emptiness?
1:48:37Is it कि कोई होगा नहीं साथ में? Is it कि time कम spend क्या? Is it regret? क्या? किस सारी चीज़ है? Guilt तो होता ही है. What's the biggest? एक guilt मुझे कभी -कभी यह होता है कि उस समें एक नई technology आने वाले थी उस oppression के लिए पर उट technology एक महिने बाद आने वाले थी डॉक्टर ने हमें कहा था कि आप चाहें तो उस पर काम कर सकते हैं हम घर में सब बैठे हम सब में डिसेट बैखे बैखे बाके सब लोग बैठे हम सब के मन में ये भाई बहुत गहरा था कि एक महिना है ही नहीं हमारे पास तो टेकनोलोजी ज़्यादा सेफ है पर वो एक महिने बद पहली बर इंडिया में आने वाले थी एक महिना है ही नहीं और जो डॉक्टर ऑपरेशन करने वाले थे वो इतने नामी थे कि हमें ये भरोसा था कि ये सभाल लेंगा तो सबने मिलके सर्वसमधी से फैसल हो गिया कि करना चाहिए ऑपरेशन अब क्योंकि सफल नहीं वह तो कभी कभी लगता है कि एक महीनए रूख जाते है वो गिल्ट तो है पर ये भी है कि अगर एक महीनए रूख जाते है कि अब वो नहीं है वोट वोज ए फेवरेट उनकी कोई फेवरेट आदत जो आपको बहुत पसंद थी कोई ऐसी चीज जो शयद आपके साथ ही करती थी मेरे साथ थाथ है मैं जा खूब करते थी मैं लगा दो तीन मेमरीस तो ऐसी है एक तो ये कि जब वो स्कूल जाती थी, वो सी स्कूल में टीजर ते जामें पढ़ता था, अच्छा हम तीन भाई हैं, तीनों महीं पढ़ते थे, वो वहां पढ़ते थे, तो एक हमारा फेवरेट का अम ये था कि वो रोज कौन सी साड़ी पहने हैं, मैं डिसाइड करता था, � तो रोग मुझे बिलाती थी कौन से साड़ी पहने और फिर मैं मुझे दो तिन साड़ी बड़ी पसंद थी हमकी मैंक सर वही उनको पहने के लिए बोलता था तो वो selection of साड़ी, एक मेरी मेमरी हमेशा है, उसमें भी एक Coca-Cola shade की साड़ी मैंद चोक्रेट शेट की साड़ी थी, चोक्रेट इन वाइट, वो मेरी बड़ी फेवरेट थी, तो वोक्सर पहनते थी, मेरे कहने पर दूसरा, मुझे बच्पन में आलू खाना बहुत पसंद था, अलू के सब्जी मेरी इतनी फेवरेट सब्जी थी, तो उन्हें नें मेरा नाम रख दिया था, अलू प्रिया, तो मैं उझे इसी नाम से बोलती थी कई बार, जब जब वो सब्जी बनते थी, एक उनका फेवरेट डिश थी, सूजी का हलवा, येलो कर रख बनाते थी, वो हमारे पूरे खांदान में बड़ा पोपलर था, उनके हाथ का बना हुआ, तो वो, अभी भी जब हम, जैसे मेरी वाइफ बनाती हैं, वो जिस इन बनता है, तो हम उसी मेमरी में सब लोग खाते हैं, कि ये मा जासा टेस्ट है, बाकी वो, क्योंकि टीचर थी, � नौकरी भी करतें थी, घर के काम भी बहुत परशान भी होती थी, हम तीन बच्चे बहुत परशान करतें थी, तो कभी -गुस्से बहुत परशान होती थी, तो मुझे एक अब हो जारू से मारा, घर से निकाल दिया घुस्से में, तो वो सब memories मेरे दिमाग में है तो मिने बड़ा अच्छा लगता थागी तो आज वो आपको सब देखती है आपके बारे में और अगर वो आपको अभी डाटती होती है किस चीज़ पर डाट रही होती है उनकी आखरी इच्छाओं में एक जो थी वो मुझे अक्सर कहती थी कि बेटा धर में खो जाओ, उजा पाठ करो, भगवान में आस्था रखो, मेरे अंदर आस्था नहीं है पर आस्था भी नहीं है, मैं एगनॉस्टिक हूँ, तो उनको ये लगता था कि किसी तरी किसी से रास्ते पर ले आँ, और मैं उनको कभी ठीक से समझाने पाया कि मेरा थौट प्रोसस क्या है और मेरे थौट प्रोसस में ऐसा बिल्कुल नहीं है कि धर्म का या भगवान का अपमान करने का भाव भाव सिर्फ इतना है कि मेरे जिग्यासा अभी उस बिंदों पर मुझी नहीं है कि मैं नेशिंत होके मनलब धार में क्रित्य कर सको। मेरे पिदा जी अब समझते हैं वो रोज हवन करने मारे विकती है मेरे पत्नी रोज पूजा करती है घर में मंदिर भी है घर में यग इशारा भी है पर वो सब इस वाट का सम्मान करते हैं कि मैं एगनोस्� तो जब घर में कोई पूज़ा का प्रोग्राम हुसां तो मैं उसमें बीरू आखे, बैटेता हूँ साथ में, अनका सब्मान करता हूँ सीचा लेकिन कोई मेरे उपर थोपता नहीं ना मैं किसी भी थोपता हूँ तो हमारे घर में सब लोग की अपने धर में कास्ता है सबकी राजनितिक पार्टियां की पसंद भी अलग अलग है तो सब लोग अपने तरही के से चलते हैं If we move ahead and talk about जो लोग आपको टीचर ऐसे देखते हैं बहुत अधिक तर और टीचर से अधिक mostly एक उमीद होती है कि ये हमें जितवाएगा life में कोई तो तरीका है जहाँ पर ये हमें आगे बढ़ाएगा ambition के साफ से देखते हैं successful बनने ही को शुरूब आपके attempts fail हुए थे बहुत सारे, कभी आपको ऐसा लगता है कि यार मैं लोगों को सिखा रहा हूँ क्योंकि मेरी जो कमी रह गई थी मैं वो करना सिखा रहा हूँ या कभी -कभी अंदर से लगता है कि probably मैं नहीं बन पाया मैं इसलिए से मैं इनको क्या सिखा रहा हूँ कभी conversation होती है थी conversation तो नहीं लेकिन खुद तो सोचते ही है मैं नहीं पहली बात तो यह मेरा selection हुआ था UPSC में पहले attempt में हुआ था जो कि अपने आप में एक बहुत rare बात है मेरे ख्याल से UPSC में जो पहले टेंट में सिलेक्ट होते होंगे हर साल अगर हजार लोग होते हैं फ्कुल मुझे नहीं लगता कि सो 200 से जर्दे होते होंगे एक साल में जो फ़स्ट एटेंट में सिलेक्ट हुआ हैं तो मैं उन में से एक हूँ तो मुझे इस बते गर्व भी ठीक ठाट है हाँ मुझे प्रोपर आई इस ने मिल पाया यह बत सही है तो हमारी field में, domain में जितने भी coaching institute's हैं अगर मान ले कि 100 या 200 teachers हैं तो उन में से 2 या 3 ही aC हैं जो select हुए थे और पढ़ाते हैं design करके उन में से एक मैं हूँ तो ये तो feeling मुझे नहीं आती है दूसरा मुझे इस बत की clarity बे साफसा है कि एक अच्छा player होना और एक अच्छा कोच होना तोफन के अलग बातें अच्छेकर साथ कितने बी अच्छा हैं वो तिंदूल करने मन सकते हैं और तिंदूल कर हो सकते हैं कि अच्छेकर न बणता हैं तो एक अच्छा खिलाडी होना अलक शंता है एक कोच होना अलक शंता है तो क्योंकि मुझे पढ़ने का पढ़ने का टीचिंग का डिबेटिंग का शुरू से अभयास रहा तो ये क्लैरिटी भी थी कि मैं खुद सफल ना भी हो पाऊं तो भी करवा तो सकता हूं मुझे पता है कैसी होना है लेकिन शज़्जम मैं एग्जिकूट ना कर पाऊं
1:55:21पहले से यह पता है कि शायद मैं बहुत अच्छा रैंक नहीं लापाऊंगा। पर जिसकी हैंड़ेटिंग अच्छी है अगर मैं उसे ठीक से सिखा दूँगा तो वो लेएगा। तो मुझे कभी ऐसा लगाने की एक अच्छा कोच होने के लिए आपको खोड़ एक अच्छा प्लेयर होना बहुत जरूरी है हाँ experience होने जरूरी कि अपने game खेली हुई है और मैंने कोई game खेली है तो मुझे वो confidence हमेशा रहा मैं यह नहीं भूल रहा about coach और player मैं पूछ रहा हूँ कि बहुत सारे टीचेज होते हैं वर्लड वाइट आप देखें जो हाई अचीविंग मेंटोर्थ होते हैं इन्हें अंदर कही ना कही एक कॉगनिटिव डिसनेंस होता है एक तरीके का गुरू का बर्डन बोल दो कि वो बहुत high achieving या रगता है कि यार publicly तो मैं जिता रहूँ और जितने लोग को जिताते जा रहूँ अंदर मुझे कभी ने कभी मैं सवाल पूछता हूँ खुछ से कि क्या सही है नहीं है क्या मैं बन पाता नहीं बन पाता यह या तो मैं अंदर से
1:56:46ڈیوڈیوڈ تو نہیں ہوں زیادہ بھومی کا بچے کی ہی ہوتی ہے تو اس دھونس میں رہنا ہی نہیں ہے کہ میں نے سیلیکٹ کروا دیا ہے بچہ ہی سیلیکٹ ہوا ہے ہاں بچہ کسی کسی معاملے میں اس کو سمجھنے میں دکت تھی میں نے سمجھا دیا تھا کہیں کنفیوزن تھا میں نے ٹھیک راستہ بتا دیا آنسر آئیٹنگ سکلز میں اس کو ڈاؤٹ تھا میں نے کچھ آنسر چیک کر گئے بتا دیا کیسے لکھنا ہے اس نے محنت کی سفل ہو گیا نمبر بان میں کسی بھی بچے کو گیارنٹی دے نہیں سکتا کہ سفل کرواہی دوں گا یہ لیمٹیشن میں جانتا ہوں سپیشلی سیویل سرویس اگزام میں کوئی بھی یہ کلیم نہ کرے کہ وہ کسی بچے کو آئیس بنا سکتا ہے نہیں کرنا چاہیے میں تو نہیں کرتا ہوں میں دے ون پہ بچوں سے بولتا ہوں جس کلاسوں میں جاتا ہوں کہ کوئی گیارنٹی نہیں ہے کہ آپ سفل ہوں گے اگر آپ یہ سورسیاں گیارنٹی ہے تو واپس سے لے جائیے مل کے کوشش کریں کہ اب بے کیجئے ہم بے کرتے ہیں چانسز ہیں کہ آئی ایس نہیں تو پی سی ایس کوئی نہ کوئی اچھا اگزام کوالیفائی کر لیں گے اور اگر دو تین سال آپ نے ٹھیک سے محنت کی خوب آنسر لکھے ٹیسٹ لکھے تو کوئی ریزن نہیں ہے کہ کہیں نہ کہیں سیلیکشن نہ ہو جائے تو جب اتنا ٹرانسپیرنسی سے آپ بات کریں تو کوئی بہت گلٹ والا معاملہ نہیں بس فراوڈ کیا فراوڈ تب ہے جب آپ کو جھوٹ بولیں پرسنلی اندر سے لگتا ہے گیا کبھی گلت لگتا کبھی ایسا نہیں ایک تو میرا سیلیکشن ہوا تھا اور دوسرا میں نے ایسے بہت ٹیچر دیکھے ہیں جن کے سیلیکشن نہیں ہوا پر بہت اچھے ٹیچر ہیں انکریڈیبل ٹیچر اور یہ بھی ہوتا نا کہ کئی پیپرس ہیں آپ کو سب میں اچھا سکور کریں تو آپ آئی ایس بنیں گے مان لیجیے نو پیپر میں سے کسی کا تین میں شاندر سکور تھا باقی سی میں شاندر نہیں تھا تو آئیس نہیں بنا اور وہ وہی تین پیپر پڑھا رہا ہے جن میں شاندر تھا تو کہاں کوئی دیکھ کر تھے آپ نے اتنے لوگوں کو سکسیسفل بنتے ہوئے دیکھا آئیس میں بھی بہار بھی لائف میں بھی ان اوبزرف کرتے ہو آپ what do you think for ایک one biggest habit یا metric کسی انسان میں جو ہوتا ہے جو سے سکسیسفل بناتی ہے discipline اس discipline کے نام بہت سارے ہیں اس کا سب سے سندر نام ہے perseverance اسی کے دوسرے نام ہے hard work اسے patience کہہ لیجئے جو کہنا ہو لیکن perseverance سب سے اچھا شاب دل سب شامل ہو جاتا ہے اور کوئی habit ہے ایسی discipline چھوڑا انسان کی trait ہی ہو گیا perseverance پہ trait ہے perseverance کا مطلب ہے اپنے target کو دماغ میں رکھ کے لمبے سمیہ تک تھنڈی آج پر دھیمی آج پر اس کے لئے محنت کرتے رہنا جس میں یہ ہے وہ دیر سویر کسی بھی فیل میں جائے سفل ہو جائے گا اس سے کوئی habit کا لینا دینا نہیں اس صبح وہ کبھی بھی اٹھے habits تو اس کے اندر rituals ہیں کوئی ایسا ritual دیکھا ہے جو successful میں نے ایسے بچے دیکھیں جو صبح چار بجے اٹھتے ہیں آئیس بنتے ہوئے ایسے بھی دیکھیں جو چار بجے سوتے ہیں وہ بھی آئیس بنتے ہیں اس سے بہت فرق نہیں پڑتا ہے کیسے ٹائپ کی لوگ سکسیسول بنتے ہیں یا کیسے ٹائپ کی سکسیسول نہیں بنتے ہیں نہیں دیکھیں ڈپینڈ کرتا ہے آپ کس فیلڈ میں اگر آپ فلم انڈسٹری میں ہیں تو آپ تککے سے بھی سفل ہو سکتے ہیں UPSC میں تککے سے نہیں ہو سکتے ہیں ہے نا اب آپ کسی ایسے بڑے گھر میں پیدا ہوگے کہ آپ کو ہیرو بننے کی چانس بار بار ملتے رہیں گے ایک آدھ پھر میٹھ ہو گئی رول ایسا ہے کہ بہت گہری ایکٹنگ کے ضرور تھے ٹھیک ٹھیک ایکٹنگ کے ضرور تھے اس نے آپ نے کر لیا آپ بن گے سپرسٹار تو اس میں سب سے بڑی بھومکہ اس تکے کیا کہ آپ اس گھروں پیدا ہوئے تھے باقی چیزیں انتہاں میٹر نہیں کر رہی ہیں کچھ چیزوں میں اب بحاظ کی بہت بڑی بھومکہ ہے جیسے آپ کلاسیکل سنگنگ کرنا چاہتے ہیں چاہے کلاسیکل سنگر کے گھر پیدا ہوئے یا کہیں پیدا ہوگئے آپ کو دس بیس سال تک ابحاص کرنا پڑے گا تب جا کے وہ لیول آئے گا جس پہ لوگ کہیں گے کہ کامال کر دی آپ تو ایسی فیلڈ جہاں پر بہت زیادہ یوگتہ نہیں چاہیے اپورچنٹی ملنا مشکل ہے وہاں تکہ پولٹیکس فلم انڈسٹری میں ہیرو واری دنیا میں کافی حد تک یہ کام کرتا ہے پھر ایک چیز اور ہے کہ آپ جس بھی فیلڈ میں جانا چاہ رہے ہیں اس کا جو بیسک ایپٹیٹیوڈ ہے وہ تو ایک نیچر گیون چیز ہے جس ویقتی کا آئی کیو کم ہے اور موٹر سکلز خراب ہیں وہ کریگیٹر بن نہیں سکتا سفر اچھا بیٹسپن نہیں بن سکتا اچھا بیٹسپن ہونے کے لیے بہت اچھا ایک بہت ضروری ہے بہت تیز پروسیسنگ آف تھوٹس بہت ضروری ہے ایک سو پجاس کی سویڈ بول آ رہی ہے آپ کے سابقے ہیں اسی ایک سیکنڈ میں آپ کو بول کو بھی دیکھنا ہے اینگل کو بھی دیکھنا ہے سارے فیلڈرز کو دماغ میں رکھنا ہے بیٹ کو کس مومنٹ پر کس اینگل پر کس سپیڈ سے ٹچ کرنا ہے کہ بول وہاں جائے جہاں آپ چاہتے ہیں اتنی فاسٹ پروسیسنگ اتنی فاسٹ موٹر سکلز جس کی ہوں گی اور جو بیس سر رگڑے گا خود کو وہ ویرات کو ہلی بنے گا یہ مزاق نہیں ہے تو فیلڈ چننے سے پہلے اپنے اپنے اپنیٹیٹیوڈ دیکھ لینا چاہیے بہت لوگ جو مانے لوگ ٹاپ ٹین یا ٹاپ ففٹین پلئیرز ہیں وہ ٹاپ ٹو ٹاپ تھری نہیں بن پاتے ہیں جبکہ وہ اب بحث سیم ٹائپ کا کرتے ہیں آئی کیو لیول پہ زیادہ ڈیفرنس نہیں ہوگا ہوگا اپنیٹیوڈ کا انتر ضرور ہوگا شمتاؤں کا انتر ہوگا ضرور ہوگا اور اگر سارے انتر نہیں ہیں تو پھر یہ تکہ ہے صحیح ہو گئے چانس کی بات یہ ہو سکتا ہے کہ آپ فارم ہیں اور فارم کا بیسک مطلب جو میں سمجھتا ہوں آپ بہت اس دن کمفرٹیبل ہے آپ کا پورا مائنڈ بوڈی آپ اس میں کنیکٹیڈ ہے یا نہیں ان جنرل بلیف کا فرق نہیں ہوتا کنفیڈنس کا بھی ہو سکتا ہے اگر سیلف کنفیڈنس آپ کا اچھا ہے تو فارم آپ کی بہتر ہو جانے چاہیے ہوگا فارم ہے ایک بہت اچھا پلیئر لگتا رات میس میں آؤٹ ہوتا جا رہا ہے کوئی نہیں سمجھ پا رہا ہے وہی آئے کیو ہے وہی اپٹیٹیوڈ ہے وہی ٹائپ کی سکلز ہے وہی پچیس سال محنت کر کے آئے پر پھر فارم میں ہے تو لگتا سینچولیز مار رہا ہے یہ فارم کیا چیزیں بہت ہی ایبسٹریکٹ ہے بہت سبجیکٹیو ہے اس کی کوئی ویاکیا ہے نہیں اس میں کانفیڈنس بھی کام کرتا ہے اس میں گلت فہمے بھی کام کرتے ہیں اس میں سپرشیشنز بھی کام کرتے ہیں کل ملا کہ جس دن آپ کا پورا مائنڈ بوڈی اگر سول ہے تو وہ بھی اگر سینرجی میں ہے آپ بہت کمفرٹیبل ہے اپنے ساتھ کوئی دبا آپ کے اوپر نہیں ہے آپ بن کے کھیل رہے ہیں تو چانسز ہیں کہ آپ کمال کر دیں گے اس دن کرکٹ کی بول فوڈبول دکھتی ہے اور نہ ہو تو ٹیبل ٹنس کی بول بن جاتی ہے میں نے کیونکہ کھیلیا کرکٹ لبے سمیہ تک سکھو گئے تو مجھے آئیڈیا ہے کہ کیا ہوتا ہے یہ آپ آپ کے فارم میں ہو یہ لائف میں ہری چیز میں ضرورت ہے کیسے آ سکتا کوئی فارم میں جیسے ٹیچنگ کی بات اگر میں کروں تو ٹیچنگ میں کیا ہوتا ہے کہ جتنے سمیں تک آپ پڑھاتے جائیں گے اگر آپ اوپن مائنڈ سے پڑھا رہے ہیں تو جو چیزیں پہلے الگ الگ ہوتی ہیں ایک سمیں کے بعد کنیکٹ ہونے لگتی ہیں دماغ کے اندر اپنی آپ کنیکٹ ہوتی ہیں پھر آپ جو تیاری کر کے جاتے ہیں اور جو پڑھا کر جاتے ہیں اسے بہت گیاب ہو جاتا ہے اور ہر بر بیٹھ رکھتا ہے اور میری زندگی میں دو تین پر ایسا ہوا کہ میں کلاس دینے گیا اور بائی چنس پڑھ کے نہیں جا پایا برنا میں کلاس سے پہلے پڑھتا ہوں تاکہ انجسٹس نہ ہو آج بھی پڑھتا ہوں دو تین پر ایسا ہوا کہ کہیں ٹیبل کر رہا ہوں کلاس کا ٹائم ہے ٹریفک جام ہو گیا آدھے گھنٹہ پہلے پہنچ کے پڑھنا سا پہنچ ہی نہیں پایا سیدھے کلاس کے ٹائم میں پہنچا اور میں نے پایا کہ ان دنوں میں سب سے اچھی کلاس ہوئی کیونکہ جب آپ ایک دم تیار نہیں ہے تو آپ کی جو رینڈمنس ہے اس میں کیا ہوتا ہے کہ بہت سارے ڈوٹس ہیں جو پہلے کبھی کنیکٹ نہیں ہو گئے تھے لائٹس ورک سٹرانگ ہو کے باہر نگلتا ہے اب وہ کنیکٹ ہو گئے ہیں سائیکولوجی ہم بولتے کہ نیورل پاتھ ویز اگر فکس ہیں تو کریٹیوٹی نہیں آئے گی کریٹیوٹی کا مطلب ہے کہ کچھ ایسی ڈوٹس کنیکٹ ہو جو نورملی نہیں ہوتے ہیں اس دن وہ ہو رہے کیونکہ یاد ہی نہیں آرہا آپ کو تو نینے کنیکٹ ہو رہے ہیں تو جیسے جیسے آپ صد جاتے ہیں آپ نینے پڑھتے رہتے ہیں ایک لیول کے بعد دماغ میں وہ کنورجنس ہونے لگتا ہے کنیکشن ہونے لگتے ہیں پھر آپ جو پڑھاتے ہیں وہ کسی کتاب میں نہیں لکھا ہوتا وہ کوئی کتاب میں ڈھونڈ ان کے سک جائے گا ملے گا ہی نہیں کسی کتاب کیونکہ اس میں کئی کتابیں کئی زندگی کے انبھاؤ اور کریٹیویٹی سب مرج ہو کہ ایک حلوہ جو بنا ہے نا وہ وہ نہ آٹے میں ہے نہ چینی میں ہے نہ دوس میں ہے وہ الگی طریقے سے بنا ہے یہ ہر فیلڈ میں کرکٹ میں بھی کیا ہوتا ہوگا کہ آپ بیس ہزار بالز کھیل چکے دو لکھ بالز کھیل چکے اور ایک دن ایک بال آئی جو ان سب سے الگ ہے اچانک آپ کے دماغ نے کہا کہ اس پر ایک نیا شورٹ ٹرائی گھرٹ میں آپ نے الگ طریقے سے بیٹھ گھما جو آس تک ہوا ہی نہیں تھی ہاس میں اور چھککا چلا گیا اور لوگوں نے کہا کہ یہ ہیلیکوپٹر شورٹ ہے دھونی کا شورٹ ہے بن گیا نیا شورٹ
2:05:50اب ہو کہہ رہے کہ نہیں اس پر ایک نیا کچھ لگے گا اسی فریکشن آف مومنٹ میں ایک سیکنڈ کے سوہے حصے میں آپ کے دماغ میں نیا شورٹ بھیجا آپ نے ایکزیکیوٹ کیا اور اتحاس میں نام ہو گیا آپ تو لمبے ابھیاز کے بعد آپ کی موٹر سکلز آپ کا ایکیو بہتر ہو کچھ کریٹیو تھوٹس کا سکوپ چھوڑ رکھا ہو تو کچھ انوویشنز ہوتے ہیں جیسے ایکزامپل اگر دیں اب جیسے اے آئی آنا شروع ہوا تو کچھ لوگوں نے اے آئی فلمز بنا دی ہیں دو تین فلمیں بھارت پہ بن گئی ہیں جو اے آئی بیس جنہیں پوری طرح سے کل میں ایک فلم انسٹیٹیوٹ میں گیا ہوا تھا ایک لیکچر دینے کے لیے تو وہاں میں نے بتائی کہ جو نیا کونسپٹ بھی دنیا میں سل دے وہ نیورو فلمز کا ہے آج سے دس سال بعد سینیما ہول میں لوگ ہیلمٹ پہن گے بیٹھیں گے ہیلمٹ کے اندر سارے الیکٹروڈ فکس ہوں گے فلم فکس نہیں ہے اڑھائی گھنٹے کے فلم تین گھنٹے کے بھی ہو سکتی ہے سب کا کنیکشن ایک سوفٹوئر کے ساتھ ہے اور باہر اس کا ڈسپلی چل رہا ہے ایک گانہ آیا سیٹ سونگ ہے اس گانے کا پرپس ہے کہ سب کو رونا ہے اس میں اور آپ کی آنکھوں کیا سو سے مطلب نہیں ہے وہ ان کو سگنل سے پتہ لگ رہا ہے کہ آپ اس چیز میں پہنچے کیا نہیں پہنچے ہزار لوگ بیٹھے ہیں سیٹر میں اور ڈیشپورٹ بتا رہا ہے کہ بھی 880 لوگ رو گئے ہیں پانچ منٹ ہو گئے ہیں تو وہ فلم اتنی سمارٹ ہے کہ گانا اپنے اب ایک منٹ ایکسٹینڈ ہو جائے گا اور ایک منٹ کے بعد دیکھا کہ اب 999 لوگ رو چکے ہیں اب گانا ختم ہوگا ایک سینہ یا فاسٹ والا سسپنس والا درانا ہے ڈر کے سگنلز کیچ کر رہی ہے مشین اور دیکھا کہ سین تین منٹ کہہ سلے کہ دو ہی میریٹ میں لوگ ڈر گئے ہیں تو سین چھوٹا ہو جائے گا اور ایسے فلم اس لیول پر انٹریکٹ کرے گی آڈینس کے ساتھ کہ آڈینس کے ایموشنز کو جج کرتے ہو فلم کی لمبائی چھوڑائی یا چھوڑائی کم ہوتی جائے گی بڑھتی جائے گی اب یہ جو آدمی اس لیول پر پہلی نیرو فلم بنائے گا اس انڈسٹری کا بادشاہ ہو جائے گا دنیا میں خطرے ہیں پر یہ کس نے نہیں سوچا کہ ہم مارس پہ سب بھیتا بنا سکتے ہیں اور مجھے یہاں سے لوگوں کو مارس پہ لے جانا ہے تو یہ مس کرے گا دنیا پیٹرول ڈیزل کی کاروں میں الجی ہوئی ہے اور وہ کہے کہ انجن بنانا ہی نہیں ہے بیٹری سے گار چلے گی انجن چاہیے کیوں انجن کی ڈیولپمنٹ کو لے کے ساری کمپنیاں بھیڑی ہوئی ہیں وہ کہہ رہے انجن ہی کیوں چاہیے بیٹری بس اسے گیمی چینج کر دی ٹیسلا بنا کے ڈرائیور کیوں چاہیے اپنے آپ چلے گی کار سنسرس لگاؤ ہیومن بینگ سے بہتر کار چلے گی اب وہ کہہ رہے کی باتچیت کرنے کے لئے بات کرنے کیوں ہے یہاں چپ لگائیں گے دماغ میں آپ کے دماغ میں چپ ہے بات ہی نہیں کرنے پڑ رہی ایسی کنیکشن ہورے ٹیلی پیٹھی سے جو اتنا نیا سوچے گا اور ایکزیگیوٹ بھی کر دے گا باتشاہ تو وہی ہوگا اس لئے اس کی کمپنی اس کو ون ٹیلین کا دور بیتن دے گی ایک سال میں کترہ نیا پن ہے اس میں do you think technology جس طریقے سے آگے جاری it will destroy humanity and us ملہب ایمان دار اسے کہیں تو AI ابھی تک کی ہر technology سے الگ ہے ہم یہ کہہ کہ کام نہیں چلا سکتے کہ پہلے ایسے کئی بار ہوا ہے یہ الگ ہے ابھی تک technologies نے کیا کیا تھا کہ ہماری motor skills کو کنٹرول کیا تھا جیسے ہم رکشہ چلاتے سے کار بن گئی تو کتنا آسان ہو گیا ٹرین بن گئی تو اور کتنا آسان ہو گیا ہزاروں لوگ مل کے ڈھوئیں گے اتنا ٹرین کے انجن نے ڈھو دیا ہوای جز بن گیا وہ سب ٹھیک ہے لیکن ہیومن بینگ کی گریٹنیس اور سپیریارٹی بنی ہوئی تھی کیونکہ ایریسٹوٹل نے بھی کہا کئی لوگوں نے کہا بھارت میں بھی کچھ لوگ کہہ جو سچ بھی یہ ہے کہ سے ہم بہتر اس لیے ہیں کہ ہمارا آئے کیو بہتر ہے اور ہمارا آئے کیو ہمیں سب سے اوپر رکھتا ہے پورے اس ایکو سسٹم میں اس پورے دنیا میں جب کیلکولیٹر بنا تو پہلی بار ایسا ہوا کہ ایک معاملے میں ہماری انٹیلیجنس کو چیلنج مشین نے کیا کیلکولیٹر ہم سے فاسٹ ہم سے بہتر کلکولیشنس کر لیتے ہیں پر کیونکہ میتمیٹکس میں اس لیول تک جانا بہت کم لوگوں کے معاملے کے ساتھ تو اسے چیلنج پرسیو نہیں کیا گیا کہ ٹھیک ہے کتنے لوگ اتنے بڑا بھاگ کرتے ہیں چنتہ نہیں ہوئی ہمیں یہ بھروسہ تھا کہ لینگویج اتنی سبجیکٹیو چیز ہے کہ لینگویج میں مشین کام نہیں کر پائے گی یہ بھروسہ مجھے بھی تھا ملو وہ وہاں کر لے گی جہاں objective results ہیں mathematics میں کر لے گی logic میں کر لے گی وہاں تک تو ٹھیک ہے اس لیے جہاں جاں simple logic ہے algorithm بنے گا yes no پھر yes کیا کہ دو بنیں گے اس کے نیچے بنیں گے تو وہ algorithmic thinking میں جو کچھ بھی ہو سکتا ہے وہاں machine اپنے arithmetic logical unit کے تھو ہمیں bypass کر لگی وہ understand اس لیے جب آج سے 20-25 سال پہلے chess میں ایک computer نے انسان کو ہرا دیا deep blue computer کا نام تھا Gary Kasparov کو ہرایا اس نے chess میں بہت بڑا event تھا ہم UPSC کے exam دے رچے تو ہمارے GS میں current affairs میں ایک events ہیں ہم نے لگا کہ یہ تو برباد کر دیا لیکن اب جب میں سمجھتا ہوں hindsight میں دیکھتا ہوں تو وہ اتنی بڑی بات نہیں ہے چیس لوجک کا game ہے اور calculator جس logic سے ہم سے جیت گیا تھا mathematics میں اسی logic سے چیس میں جیت سکتی ہے language میں algorithm کام نہیں کرتا ہوں language بہت subjective ہے کس word کا کیا meaning کسی بھاشا میں ہوگا ایک دم arbitrary ہے random ہے سائلنس کے اپنے مطلب نکلتے ہیں ایک ہی ورڈ دو الگ الگ سائل سے کہا جائے میننگ چینج ہو جاتا ہے جیسے میں آپ سے کہوں کہاں گئے تھے پھر بولوں کہاں گئے تھے میننگ چینج ہو گیا مشین اس لیول پہ کسی سمجھ پائے گی ہمیں تو یہ لگتا تھا پر ہم نے بیس سال پہلے پڑھنا شروع کر دیا تھا ٹیکنالوجی میں کہ AI نام سے پروڈیکٹ چل رہا ہے اور ان کا ٹارگیٹ ہے AIM ultra intelligent machine بنانا جو تیورن ٹیسٹ کو پاس کر لے گی تیورن ٹیسٹ کا مطلب یہ ہے کہ آپ پتہ نہ لگا سکے کہ آپ کے سابقے ہیں ماشین ہے یا انسان ہے پرانا ٹیسٹ چکے قریب 100 سال پہلے کا پیشتے تین سال سے اچھا 6-7 سال سے اندیشہ ہونا شروع ہو گیا تھا کیا آ رہا ہے کیونکہ translation جب کرتی تھی ماشین آج سے دس سال پہلے translators بڑے confidence میں رہتے تھے کہ ارے ماشین کچھ بھی کر لے نہیں کر پائے گی اور کر بھی نہیں پاتی تھی بڑا خراب خراب ٹرانسلیشن ہوتا تھا UPSC میں پورا مومنٹ 2014 میں ہوا تھا میں بھی اس میں کافی ایکٹیو تھا کیونکہ ٹرانسلیشن کی پرابلم پر مومنٹ ہوا تھا اور آرو پیئی تھا کہ گوگل ٹرانسلیٹ ہو رہا ہے اور گوگل کچھ بھی ٹرانسلیشن کر دیتا ہے پر گوگل نے ایوالف کرتے کرتے اور بھی بہت سوفٹوئرز نے آج حالت یہ ہے چار پانچ سال پر دیکھنا شروع ہو گیا تھا آج حالت یہ کہ اگر human translation کو benchmark مان لیں سو تو normal language میں technical language میں google کا level 105-110 ہے سو سے کم نہیں ہے کہ وہ literary اور creative میں تھوڑا سا کہیں کہیں mark آتا ہے پر اب وہ کیا کر رہے جتے ہیں محاورے ہیں لوگ اوکتی ہیں idioms ہیں ان کو بھی اپنے data ملے رہے ہیں contextualization کر رہے ہیں میرے خیال سے ایسے تین چار سال بعد وہ اس میں بھی ہم سے بھاری پڑیں گے تو چھ سات سال سے میں لگ رہا تھا کہ لینگویس کے معاملے میں کیسے مشینیہ تک پہنچ گئی پھر پتہ رہا ہے لارج لینگویس موڈلز من گئے ہیں سمال لینگویس موڈلز میں ہیں جو ہم لوگ یوز کرتے ہیں آج کل لیکن علمز تو ہیں ہی اور پچھلے ایک دو سال میں تمہیں دیکھا ہے کہ کوئی باؤنڈری بچی نہیں لینگویس کے معاملے میں تو کبھی طائم بھی لکھ رہا ہے کمپیوٹر ریسرچ میں تو کوئی بات یہ نہیں ہے اب جو اگلے خطرے ہیں یہ سارا اس بات پر کہ پروسیسنگ کے سپیڈ اور ایکیوریسی کتنی ہے پروسیسنگ کے سپیڈ اور ایکیوریسی ابھی جی پیوز کم پروڈیوز ہو پا رہے ہیں تو بہت کمپیوٹیشن چل رہا ہے دنیا میں چائنا تھوڑا سا پیچھے ہے تو اس لیے کہ جی پی یوز اسو ملنے رہی ہیں کیونکہ جی پی یوز بنانے والی ایک ہی بڑی کمپنی ہے وہ تائیوان کا تو چاہے نہ کوئی نہ دینا چاہ رہا ہے نہ ہمیرکہ دینا چاہ رہا ہے پر دو چار پانت سال کی باتیں ہیں کوئی نہ کوئی توڑ نکال لے کہ چاہے نہ اس کا بھی پھر جو کمپیٹیشن ہوگا اور میں کل اسی سپیچ میں ایکزامپل دے رہا تھا کہ جو ویلو چپ گوگل کی آئی ہے کوانٹم میں جو رینڈم نیس ہے اس کو بھی اس نے کنٹرول کر لیا ہے آلموس ایکیوریٹ ہے اور وہ کتنی کلکولیشن کر رہے ہیں اگر اس کی سپیڈ سمجھیں گے ٹیکنگل لینگویج میں دنیا کا سب سے بڑا سپر کمپیوٹر جتنی کلکولیشن میں ون سیپٹیلین یئرس لگاتا ہے ون سیپٹیلین کا مطلب ہے ایک کیا کہ چوبیس زیرو تین زیرو پہ تھاؤزنڈ چھ پہ ملین نو پہ بلین بارہ پہ ٹریلین بڑھاتے جائیے سیپٹیلین چوبیس زیدو پہ آتا ہے ایک کیا کہ چوبیس زیدو لگائیے اتنے سال میں دنیا کا سب سے تیج سپر کمپیوٹر جتنی پروسیسنگ کرتا ہے اتنی پروسیسنگ ویلو چپ پانچ منٹ میں کرتی ہے
2:15:27یہ میں نہیں کہہ رہا آپ نیٹ پہ سرچ کر لیتی ہیں اور ویلو چپ تو شروعات ہے یہاں سے تو بتانی کہا جائیں گے ابھی تو جیسے کیو بٹس کے لیول پر سفل ہو گئے اب تو کمال کر دیں گے اس کا فائدہ بہت ہے میڈیکل سائنس میں جو ریسرچ ہونے میں لگتے ہزار سال وہ شاید دو سال میں ہو جائے گی بیماری ہیں شاید ساری ختم ہو جائیں کینسر بینسر کے لیجتنا آرام سے ہونے لگے گا اگلے دس بیس بچے سال میں میڈیسنز کے معاملے میں کسٹمائز میڈیسنز آپ کو وائرل ہوا موسیق ہوا دوائی ایک جیسے نہیں ہوگی آپ کے جنوم کے ساب سے آپ کیوں کہ میری جنوم کے ساب سے میری ہوگی یہاں تک ہوگا ایڈوکیشن میں کامال ہو جائے گا اے ایر وی ایر بیز ایڈوکیشن ٹولز آ جائیں گے مزہ آ جائے گا بچے کو بڑھے میں ہر بچے کے لئے کسٹمائز ٹیچر ہو جائے گا جو ہیومنائیڈ روبوٹ سے بن سکتا ہے کیسے بن سکتا ہے یہ سب کمال ہونے والے ہیں لیکن کیا انسان کسی بھی معاملے میں مشین سے سپریئر رہے گا یہ بہت ڈاؤٹفول ہے اور جس دن اے جی آئی آگئی جو کہ کچھ لوگ کہہ رہے گی اگلے سال آئے گی کچھ کہہ رہے گی دس بیس سال بعد آئے گی اور اے اے سائی جس جن آگئی جس کو ہم آرٹیفیل سپر انٹیلیجنس کہتے ہیں میں لگا کچھ دنوں میں ایسی مشین بن جائے گی جو ایک ساتھ دنیا کے سارے ہیومنز کے collective brain سے آتاقتور ہوگی اور میرا کھیل ہے کہ future میں اگر انسان machineوں سے بہتر رہیں گے تو کیا بھر ایک معاملے میں کہ emotions کی processing emotions کی understanding اور emotions میں spiritual experience کو میں لوں ہوں کیونکہ وہ بھی ایک بہت high emotive experience ہوتا ہے وہ machineوں کے بس کی باتشاہد نہیں ہوگی یہ کتنی بھی طاقت لگا رہے ہیں میرے خیال سے وہاں ہی پہنچ پائے گی حالانکہ consciousness کی latest theories claim کر رہے ہیں کہ وہ بھی شاید ہو سکتا ہے ایک ایڈوائیس دو یا tell me something that آپ نے اتنے سارے پاڈکاسٹ کریں انٹیویوز کریں لوگوں سے ملتے ہو آپ how can I make this better کیا میں بہتر طریقے سے کر سکتا ہوں مجھے پاڈکاسٹ دنیا میں ایک جنرل شکایت یہ رہتی ہے کہ it's not about you کہ لوگ بہت گہرائی میں پڑھ کے سمجھ کے پھر بات کرے تو اس کی بات الگ ہوتی ہے انڈیا میں جو پاڈکاسٹنگ دنیا میں ان میں سے ادھیکانچ لوگ بہت ہی شیلو لیول پر بات کرتے ہیں آپ ان سب سے بہت بہتر ہیں لیکن اس میں کوئی لیمٹ نہیں ہوتی تو پڑھتے رہیے بس
2:18:03ٹوٹر پہ سب نفرت اور باہر سب پیار کرتے ہیں تو یہ سوشل میڈیا کی ہیٹ جو ہے اس میں ایک تو انونیمیٹی کا بہت بڑا پرچھے جب سامنے والے کو پتا ہو کہ میں گالی دوں گا پتا نہیں چلے گا کہ میں نے دی ہے تو آپ بھی گالی خوب جم کے دیتا ہے کیوں اس کو موب بیہیور کہتے ہیں جیسے انسان کو یہ سمجھ میں آتا ہے کہ پتا نہیں چلے گا کہ میں تھا وہ اپنی ایڈ پہ آ جاتا ہے ایڈ ایگو سپر ایگو تین شب چلتے ہیں ایڈ مطلب وہ اپنی اینیبال انسٹنکٹ پہ آ جاتا ہے
Read the full transcript
2:18:38بہت نیتک بہت اچھا تو موب بہیور کا مطلب ہے جس کھن یہ خطرہ خطمہ ہوگا کہ لوگ مجھے پہچان پائیں گے یعنی انونیمیٹی آگئی آپ کا بہیور چینج ہو جاتا ہے اگر آپ کو تین چیزیں کرنی ہے سب سے پہلے اس چینل کو سبسکرائب کر لو تاکہ اسی طرح ہم اور بھی ویلیویبل گیس لاتے رہے نمبر ٹو مجھے کومنٹس میں بتاؤ کہ اس اپیسوڈ میں آپ کو کیا اچھا لگا اور کون سے اسے گیسٹ ہیں جو آپ دیکھنا چاہتے ہو ہم اس اپیسوڈ میں اس پاڈکاست میں لے کے آئے اور یہ اپیسوڈ کسی ایک انسان کے ساتھ ضرور شیئر کرنا جس کو اپنی لائف میں اس سے کچھ بیٹر چینج کرنے کا موقع ملے گا کیونکہ ایک کانورزیشن can change someone's life I'll see you next time until then keep figuring out
From the publisher
Download Porter Here: https://app.adjust.com/1ukwucv4
Guest Suggestion Form:
https://forms.gle/bnaeY3FpoFU9ZjA47
Disclaimer: This video is intended solely for educational purposes and opinions shared by the guest are her personal views. We do not intent to defame or harm any person/ brand/ product/ country/ profession mentioned in the video.
Our goal is to provide information to help audience make informed choices. The media used in this video are solely for informational purposes and belongs to their respective owners.
Order 'Build, Don't Talk' (in English) here: https://amzn.eu/d/eCfijRu
Order 'Build Don't Talk' (in Hindi) here: https://amzn.eu/d/4wZISO0
Follow Our Whatsapp Channel: https://www.whatsapp.com/channel/0029VaokF5x0bIdi3Qn9ef2J
Subscribe To Our Other YouTube Channels:-
https://www.youtube.com/@rajshamaniclips
https://www.youtube.com/@RajShamani.Shorts
📺 Watch Figuring Out episodes on YouTube: https://youtube.com/playlist?list=PLE0Jo6NF_JYO5-phess8GKafKMtPv3tfZ
(00:00) - Intro
(03:30) - The role of perception in success
(05:49) - Misunderstandings about Dr. Vikas Divyakirti
(08:24) - The definition of an ideal man
(14:14) - His fears
(23:54) - Self-respect and unconscious fear
(27:08) - The last time he felt humiliated
(31:10) - Suppressing emotions
(40:24) - Evolutionary psychology
(46:16) - Love marriage or arranged marriage
(58:00) - Types of monogamy
(1:00:56) - Emotions of men vs women
(1:06:03) - Why people cheat
(1:20:07) - Marriage
(1:25:14) - Relationships and success
(1:33:15) - The loneliness epidemic
(1:41:21) - Emotional tax, men vs women
(1:45:34) - The last time he cried
(1:49:55) - His favorite memory of his mother
(1:52:57) - Cognitive dissonance in teachers
(1:58:28) - One habit for success
(2:03:30) - The future of technology
(2:17:11) - Advice for Raj
(2:17:52) - BTS
(2:18:52) - Outro
In today's episode, our guest is Dr. Vikas Divyakirti, Educator & Author. In this episode, we talk about how perception shapes our entire life. Dr. Vikas Divyakirti explains how people often see him as “too serious,” while in reality, he’s fun, active in sports, and very different from the image created around him. He says society keeps telling us to be “ideal” , good at dance, sports, grooming, and understanding people but trying to be ideal only makes life harder. It’s much better to simply be a comfortable and real human being.
The episode then moves into relationships, evolution, and loneliness. How men and women choose partners is mostly driven by evolutionary psychology, not logic. Most relationships run on cost-benefit analysis, and marriage may reduce in the future. We talk about why people cheat because of the clash between our genes that push us to seek variety and a society that demands monogamy and “sanskaar.” The conversation ends with loneliness, modern emotional needs, and how humans today struggle between biology and expectations.
Subscribe for more such conversations!
Follow Dr. Vikas Divyakirti Here:Instagram: https://www.instagram.com/divyakirti.vikas
About Raj Shamani
Raj Shamani is an Entrepreneur at heart that explains his expertise in Business Content Creation & Public Speaking. He has delivered 200+ speeches in 26+ countries. Besides that, Raj is also an Angel Investor interested in crazy minds who are creating a sensation in the Fintech, FMCG, & passion economy space.
To Know More,Follow Raj Shamani On ⤵︎
Instagram @RajShamani https://www.instagram.com/rajshamani/
Twitter @RajShamani https://twitter.com/rajshamani
Facebook @ShamaniRaj https://www.facebook.com/shamaniraj
LinkedIn - Raj Shamani https://www.linkedin.com/in/rajshamani/
About Figuring Out
Figuring Out Podcast is a Candid Conversations University where Raj Shamani brings raw conversations with the Top 1% in India.




